برطانیہ کی ملکہ کی تعزیتی کتاب پر دستخط کیلئے تائیوان کو بھی دعوت
تائیوان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ لندن میں تائیوان کے ڈی فیکٹو سفیر کو ملکہ الزبتھ دوم کی رحلت پر تعزیت کی کتاب پر دستخط کرنے کیلئے ’’خصوصی دعوت‘‘ موصول ہوگئی ہے۔ وزارت نے کہا اس حوالے سے تائیوان کو بھی وہی درجہ دیا جارہا ہے جو دنیا کی دیگر ممالک اور قابل ذکر شخصیات کے ساتھ اپنایا جارہا ۔
خیال رہے کہ زیادہ تر ملکوں کی طرح برطانیہ کے بھی تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ تائیوان پر چین اپنے رسوخ کا دعویٰ کرتا ہے۔ درحقیقت تائیوان نیم خودمختار ریاست ہے۔ چین کے اعتراضات اور ناراضی کی وجہ سے زیادہ تر بین الاقوامی واقعات اور جمہوری ملکوں کے اداروں کی جانب سے ہونے والی تقریبات میں تائیوان کو خارج رکھا جاتا ہے۔
تاہم اب معلوم ہورہا ہے ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پر برطانیہ نے تائیوان کو دیگر خود مختار ملکوں کی طرح خصوصی دعوت دی ہے۔ تائیوان کی وزارت خارجہ نے اتوار کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ لندن میں اس کے نمائندے کیلی ھسیہ کو برطانوی حکومت کی طرف سے خصوصی دعوت موصول ہوگئی ہے۔
چین انپے نائب صدر وانگ کیشان کو ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے برطانیہ بھیجے گا۔ برطانیہ کے بعض ارکان پارلیمان کو چینی نائب صدر کو برطانوی ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے بلانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ بیجنگ نے برطانیہ کے کئی قانون سازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان قانون سازوں نے سنکیانک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کی تھی۔ چین سنکیانک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تردید کرتا ہے۔
تائیوان نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ اس کی جانب سے کسی نمائندہ کو برطانیہ بھیجا جائے گا یا نہیں۔
برطانوی دفتر خارجہ کے بدھ کے بیان کے مطابق ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں امریکی صدر بائیڈن سمیت متعدد عالمی رہنما شریک ہوں گے۔
برطانوی دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ برطانیہ نے شمالی کوریا کے نمائندے کو ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے مدعو کیا تاہم شام،افعانستان اور وینز ویلا کو نہیں بلایا گیا۔ لندن نے ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے روس، میانمار اور بیلا روس کو بھی دعوت نہیں دی ہے۔