کیا ترکیہ امریکا کے ساتھ فوجی تعاون بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟
گذشتہ روز ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا کہ انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کے باوجود ان کے ملک اور امریکا کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم ’’قلیل وقت‘‘ میں ایک سو ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ کیا ترک صدرامریکا کی طرف سے ترکیہ کی فوجی صنعت پرعاید پابندیوں کو ہٹانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
ترکیہ کی بولو یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اور پروفیسر فیصل آئیہان جسے یونیورسٹی آف بولو ابانٹ ایزیٹ بیسال یونیورسٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے نے اشارہ کیا کہ ترک صدر نے دفاع میں ترکیہ - امریکا تعاون کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایردوآن نے ترکیہ کی فوجی صنعتوں اور فوجی مصنوعات پر عاید پابندیوں کے خاتمے پر بھی بات کی۔
ایہان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ترکیہ نے تقریباً 4 سال قبل امریکا پر اس وقت برہمی کا اظہار کیا تھا جب اس نے روس کے فضائی دفاعی نظام S-400 خریدا تھا۔ اس وقت سے دونوں فریقوں کے درمیان تنازعات شروع ہو گئے تھے اور بعد میں واشنگٹن نے اس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تُرکیہ کے دفاعی شعبےانقرہ کو F-35 جنگی طیاروں کی تیاری کے پروگرام سے نکال دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "انقرہ آج دفاعی صنعت کے شعبوں کے حوالے سے پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ ایک طرف تو اس نے روسی ہتھیار حاصل کر کے واشنگٹن کو ناراض کیا اور دوسری طرف یونان اور قبرص کے ساتھ اپنے فوجی تعاون کو مضبوط کر رہی ہیں۔ اس لیے ترکیہ کے صدر اس مخمصے پر قابو پانا چاہتے ہیں، خاص طور پر چونکہ واشنگٹن ترکیہ روس میں فوجی تعاون کو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ترکیہ نیٹو کے اندر امریکا کے ساتھ اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہو سکتا ہے، لیکن واشنگٹن اسے مغربی یا روسی ہتھیاروں کے حصول میں سے کسی ایک کا انتخاب پیش کرتا ہے۔ اس لیے اس مسئلے کے حل میں بڑی رکاوٹ ترکیہ اور روس کی فوج کے تعاون میں ہے۔ لیکن انقرہ یوکرین جنگ میں اپنے کردار کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ حل تلاش کر سکتا ہے۔
جمعرات کو ترک صدر نے اپنے ملک اور امریکا کے درمیان دفاعی صنعتوں کے شعبے میں تعاون کی راہ میں "مصنوعی رکاوٹوں" کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ دفاعی صنعتوں میں ہمارے تعاون میں مصنوعی رکاوٹیں نیٹو کی سلامتی کو منفی طور پر متاثر کرتی ہیں۔
-
ترکیہ نے یوکرینی مقبوضہ علاقوں میں ریفرنڈم کرانے کے روسی اعلان کی مذمت کردی
ترکیہ نے یوکرین کے روسی قبضے میں لیے گئے علاقوں میں ریفرنڈم کرانے کےاعلان کو ...
بين الاقوامى -
ترکیہ کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی،طیب ایردوآن کو امریکی سینیٹرز سے حمایت کی توقع
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے امریکی سینٰٹرز سے ہونےوالی ملاقاتوں کے بعد کہا ہے ...
بين الاقوامى -
ترکیہ کا شامی حکومت کی فوجی چوکی پر حملہ، تین افراد ہلاک
شام کے شمالی علاقے میں ترک فوج نے اتوار کو اسدی فوج اور کرد ملیشیا کے زیرقیادت ...
مشرق وسطی