یمن اور حوثی

امریکی ایلچی نے حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت کردی،خلیجی اتحادیوں کی حمایت کاعزم

یمن میں ایران نوازحوثیوں کو جنگ بندی کے معاہدے پر زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے:ٹِم لینڈرکنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے یمن ٹِم لینڈرکنگ نےایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ توسیع شدہ جنگ بندی کے معاہدے پرمزید لچک کا مظاہرہ کریں تاکہ اتوار کو ختم ہونے والے سابقہ معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

لینڈرکنگ نے بدھ کو ایک نیوزبریفنگ میں کہا کہ شمالی یمن پرقابض حوثیوں نے سرکاری شعبے میں اُجرتوں کی ادائی کے مجوزہ طریق کارپر’’زیادہ سے زیادہ اور ناممکن مطالبات‘‘ کیے ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ اگر گروپ لچک کا مظاہرہ کرتا ہے تو توسیع معاہدہ طے پاسکتا ہے۔

حوثیوں کی مذاکراتی کمیٹی کے ایک رکن نے ایک ٹویٹرپوسٹ میں اپنی انتظامیہ کے تحت پولیس، سکیورٹی فورسز اور فوجی دستوں کے ارکان کو اجرتوں کی ادائی کی مجوزہ اسکیم میں شامل نہ کرنے پرتنقید کی تھی۔

واضح رہے کہ اس سال اپریل میں پہلی بار طے پانے والی ابتدائی جنگ بندی کے نتیجے میں عرب اتحاد اورحوثی ملیشیا کے درمیان گذشتہ سات سال سے جاری تنازع میں نسبتاً سب سے طویل عرصہ امن کی کیفیت برقراررہی ہے۔

لینڈرکنگ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی زیرقیادت مذاکرات اور امریکی سفارت کاری ’’بلاروک ٹوک‘‘ جاری ہے۔ابتدائی جنگ بندی کے اہم عناصراب بھی برقرارہیں۔نسبتاً کم تشدد، ساحلی شہرالحدیدہ کی بندرگاہ پرایندھن کی ترسیل اور دارالحکومت صنعاء سے تجارتی پروازوں کا تسلسل۔ یہ دونوں شہرحوثیوں کے قبضے میں ہیں۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ دونوں فریق جنگ بندی کی تجدید کرنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ وہ اب بھی سول سروس کی اجرتوں کی ادائی ، ایندھن کی ترسیل میں اضافے ، ہوائی پروازوں اور شاہراہوں کو کھلا رکھنے کی تجاویزپرعمل درآمد سے بہت دور ہیں۔

تاہم لینڈرکنگ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگرحوثی ان بہت زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں جنھیں پورا کرنے کی انھوں نے شرط عایدکی ہے تو ہم معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

انھوں نے حوثی باغیوں کے حالیہ بیانات پر بھی تنقید کی جس میں تجارتی جہاز رانی اور تیل کمپنیوں کو دھمکی دی گئی ہے اور کہا کہ امریکااپنے خلیجی شراکت داروں کوان کے دفاع میں مدد دیتا رہے گا۔

گذشتہ قریباً چھے ماہ کے دوران میں جنگ بندی کے عرصے میں یمن میں متحارب فریقوں کے درمیان بڑی فوجی کارروائیاں رُکی رہی ہیں۔ان میں اتحادیوں کے فضائی حملے اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر سرحد پار ڈرون اور میزائل حملے شامل ہیں۔

یادرہے کہ عرب اتحاد نے مارچ 2015 میں یمنی حکومت کی دعوت اس تنازع میں مداخلت کی تھی۔اس سے چھے ماہ قبل ستمبر2014ء میں حوثیوں نے صنعاء میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور سرکاری اداروں پر قبضہ کرلیا تھا۔اس تنازع میں گذشتہ آٹھ سال کے دوران میں ہزاروں افرادہلاک ہوچکے ہیں۔یمن کی معیشت تباہ حال ہے اور لاکھوں افرادبھوک وننگ کا شکار ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں