ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے ذمہ دار حکام پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر دیں

پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایرانی وزیر داخلہ اور سائبر پولیس سربراہ بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے ایران میں انٹر نیٹ پر پابندی لگانے والے سات حکام پر پابندی لگادی ہے۔ ایرانی حکام نے مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد مظاہرین کی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر پذیرائی ملنے سے روکنے کے لیے انٹر نیٹ کو بند کر دیا ہے۔

2019 میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاون کے حصے کے طور انٹر نیٹ اور موبائل فون سروس بند کر کے دوسرے ملکوں کو بھی ان چیزوں کے ذریعے مظاہرین کی سرگرمیوں کو عالمی برادری کے سامنے آنے سے روکے رکھنے کا راستہ دکھایا تھا۔ ایران بھی شہری حقوق اور ریاستی مظالم کی کوریج روکنے کے لیے بھارتی راستے پر ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے یہ پابندیاں ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی، وزیر مواصلات اعجاز زری پور، واحد محمود اور ایرانی سائبر پولس کے سربراہ ناصر مجید و دیگر پر بھی لگائی جارہی ہیں۔

امریکہ نے ایرانی حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ کی بندش اور مظاہرین پر تشدد کی مذمت کی ہے۔ امریکہ نے ان واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے گریز پر بھی ایرانی حکومت کی مذمت کی ہے۔

وزارت خزانہ کے انڈر سیکرٹری برائے سیاحت اور فنانشل انٹیلیجنس بریان نیلسن نے اس بارے میں اپنے بیان میں کہا ہے' ایران کے نیو یارک میں موجود مشن نے فوری طور پر اس معاملے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

امریکہ اپنی پابندیوں کی تازہ کارروائی کے لیے ایرانی پاسداران کے کمانڈر حسین نجات اور پاسران کے ڈپٹی پولیٹیکل کماندر یداللہ جاوانی کو بھی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اسی طرح ان میں ایرانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دوسرے ذمہ دار کمانڈر حسین ساجدینیہ اورحسین رحیمی بھی شامل ہیں۔ امریکی حکومت کا موقف ہے کہ حسین رحیمی ایران کی اخلاقی پولیس کے امور کو دیکھنے کے ذمہ دار ہیں۔

دوسری جانب ایران میں مظاہرے کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 150 فرد ان مطاہروں کے دوران مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے امریکہ کی طرف سے پچھلے ماہ بھی ایران پر اسی نوعیت کی پابندیاں لگائی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ جیسا کہ ایران کو انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ ایران کو مزید قیمت دینا پڑے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں