صدربائیڈن کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا اعلان،چین اور روس ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روزطویل عرصے سے التوا کا شکارقومی سلامتی کی حکمتِ عملی کااعلان کیا ہے۔اس میں جمہوری ممالک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اورچین کے عروج کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یوکرین کے بحران کی وجہ سے تاخیرکا شکار ہونے والی 48 صفحات پرمشتمل یہ دستاویزانتظامیہ کی سوچ میں کسی جوہری تبدیلی کی عکاس نہیں اوراس میں صدر جوبائیڈن کی خارجہ پالیسی کا کوئی بڑا نیا نظریہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے اس دستاویز میں وائٹ ہاؤس کے اس نقطہ نظر پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ امریکی قیادت موسمیاتی تبدیلی اور آمرانہ حکومتوں کے عروج جیسے عالمی خطرات پر کیسے قابو پاسکتی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ روسی حملے کے بعد بھی چین عالمی نظام کے لیے سب سے زیادہ چیلنج کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے اگرامریکا دنیا بھر میں اپنا اثرورسوخ برقراررکھناچاہتا ہے تواسے سُپرپاورکے ساتھ اقتصادی ہتھیاروں کی دوڑ میں بھی کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان نے بدھ کے روز پالیسی کے پیش لفظ میں کہا:’’عوامی جمہوریہ چین بین الاقوامی نظام کو اس انداز میں اپنے حق میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا جھکاؤ عالمی کھیل کے میدان میں اس کے اپنے مفاد کی طرف ہوسکے جبکہ امریکا ہمارے ممالک کے درمیان مسابقت کو ذمہ دارانہ طور پر منظم کرنے کے لیے پرعزم ہے‘‘۔

سلیوان نے کہا کہ امریکا کو چین کے ساتھ تعلقات کو منظم کرناچاہیے جبکہ بین الاقوامی چیلنج لوگوں کو متاثر کررہے ہیں۔ ان میں موسمیاتی تبدیلی، غذائی عدم تحفظ، متعدی بیماریوں، دہشت گردی، توانائی کی منتقلی، اور افراط زرایسے مسائل ہیں۔

بائیڈن نے ابھی تک خارجہ پالیسی کے کچھ اہم مباحث کو حل نہیں کیا ہے ۔ان میں ان کے پیشرو ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے نافذکردہ چینی مصنوعات پر محصولات شامل ہیں۔ان سے امریکی درآمد کنندگان کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔اس کے علاوہ روس کے اقدامات سے نمٹنا،دیرینہ اتحادی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں سردمہری اوربھارت کا روس کی توانائی پرانحصار شامل ہے۔

سلیوان نے ہفتے کے اوائل میں بائیڈن کے اس بیان کی تائید کی کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کا ’’ازسرِنو جائزہ‘‘لے رہا ہے۔سعودی عرب اورروس کی قیادت میں تیل برآمدکنندگان پر مشتمل اوپیک پلس نے گذشتہ ہفتے امریکی اعتراضات کے باوجود اپنی خام تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کا اعلان کیا تھا۔

انتظامیہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس حکمت عملی کو کانگریس کو اسی وقت بھیجے گی جب وہ اپنا مجوزہ بجٹ پیش کرے گی۔وہ بالعموم 28 مارچ کوبجٹ پیش کرتی ہے۔

جیک سلیوان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے بحران کی وجہ سے اس حکمت عملی کے اعلان میں تاخیرہوئی ہے لیکن خارجہ پالیسی کے بارے میں بائیڈن کا نقطہ نظر ’’بنیادی طور پر تبدیل‘‘نہیں ہوا ہے۔تاہم،انھوں نے کہا کہ اس نے حقیقی دنیا کی عملی پالیسی کی مثال کے طورپرکام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے یقین ہے،قومی سلامتی کی حکمتِ عملی ہمارے نقطہ نظر کے اہم عناصر کو زندہ رنگ میں پیش کرتی ہے۔اس میں اتحادیوں پرزور ہے، جمہوری دنیا کے ہاتھوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت کا ذکر ہےاورمعاصرجمہوریتوں اور جمہوری اقدار کے لیے کھڑے ہونے کا عزم ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں