روس کے ڈرون حملوں پر یوکرینی حکام نے ایران کی مذمت کردی، کیوں؟
یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی کے ایک مشیر نے اپنے شہروں پر روس کے نئے ڈرون حملے کے بعد کہا ہے کہ ایران ’’یوکرینی شہریوں کے قتل‘‘کا ذمہ دار ہے۔
یوکرین نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں ایرانی ساختہ شاہد-136 ڈرونز کے استعمال کی اطلاع دی ہے اور روسی فوج نے ان ڈرونز کے ذریعے یوکرین کے شہروں پر حملے تیز کررکھے ہیں۔ایران نے روس کو ڈرون مہیا کرنے کی تردید کی ہے جبکہ کریملن نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
صدر کے مشیرپوڈولیاک ٹویٹرپرلکھتے ہیں:
ایران یوکرین کے شہریوں کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ اپنے ہی لوگوں پر ظلم کرنے والا ملک اب یورپ کے وسط میں بڑے پیمانے پرقتلِ عام کے لیے خطرناک ہتھیار دے رہا ہے۔مطلق العنانیت کے نامکمل کاروبار اور مراعات کا یہی مطلب ہے‘‘۔
دریں اثناء، یوکرین کے وزیرخارجہ دیمیتروکلیبا نے ایران پر یورپی یونین کی پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے دارالحکومت کیف پرروس کے ڈرونز کے ذریعے حملے کے بعد یہ مطالبہ کیا ہے۔اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
کلیبا نے ٹویٹر پر کہا کہ انھوں نے ’’مزید فضائی دفاع اور گولہ بارود مہیا کرنے کی درخواست کی اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ روس کو ڈرونز مہیا کرنے پرایران کے خلاف پابندیاں عاید کرے‘‘۔
وہ یوکرین میں روس کے چھوڑے گئے ایرانی ڈرونز کا حوالہ دے رہے تھے۔