مصر نے برازیل کے نومنتخب صدر لوئیس اناشیو لولادا سلوا موسمایاتی تبدیلوں سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ لولاداسلوا کی منصب کے لیے جیت کو عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بڑی اچھی پیش رفت مان رہے ہیں۔
ان کے مد مقابل صدارتی امیداواربولسونارو موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں کے تصور کو رد کرنے کے حامیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ لکڑی اور کوئلے سے چلنے والی صنعتوں کے حق میں موقف رکھنے کی وجہ سے ماحولیات دشمنی کے درجے کو چھو گئے تھے۔
اپنے ایک ایسے مد مقابل جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے منفی اپروچ کے حامل تھے کو شکست دینے کے بعد لولاداسلوا نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'برازیل موسمیاتی تبدیلوں کے چیلنج کے خلاف اور خصوصا ایمزون کے خلاف اپنی جگہ بنانے کے لیے پھر سے تیار ہے۔ '
برازیل کے نو منتخب صدر اور بائیں بازو کے ستر سالہ رہنما لولا داسلوا نے جنگلات کی کٹائی کے خلاف بھی جدو جہد کا اعلان کیا ہے، کہ درختوں کی کٹائی کو مکمل روکا جائے گا۔
مصر شرم الشیخ کے مقام پر موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کانفرنس کی میزبانی کرنے جارہا ہے۔ مصر نے لولاداسلوا کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
دوسری جانب لولا دسلوا جن کے بطور صدر ذمہ داریاں سنبھالنے میں یکم جنوری تک کا انتظار ہے نے اس دعوت کے بارے میں کہا ہے کہ وہ مصر کی دعوت کے قبول کر کے کانفرنس میں جانے پر غور کررہے ہیں مگر ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے چھ سے اٹھارہ نومبر کے درمیان امریکی صدر جوبائیڈن سمیت 90 ملکوں کے سربراہان کی اس کانفرنس میں شرکت متوقع ہے۔ مصری صدر سمجھتے ہیں کہ برازیل اس بارے میں زیادہ اچھا کردار ادا کر سکے گا۔