بھارت: سکھ مقدس مقام میں انتہا پسند ہندو رہنما سدھیر سوری کو قتل کردیا گیا

سدھیر کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ کوڑے دان سے ہندو مورتیاں ملنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پولیس نے بتایا کہ بھارت میں سکھوں کے ایک مقدس مقام پر جمعہ کے روز ایک ہندو انتہا پسند رہنما کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ ہندو مورتیوں کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ہندو مورتیاں کوڑے دان سے ملی تھیں۔

"شیو سینا" نامی بنیاد پرست مذہبی گروپ کے خود ساختہ رہنما 58 سالہ سدھیر سوری کو امرتسر میں قتل کیا گیا۔ امرتسر میں سکھوں کی مقدس ترین عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل موجود ہے۔ سکھ مت سولہویں صدی میں شمال مغربی ہندوستان میںملک کے دو غالب مذاہب ہندومت اور اسلام کے درمیان ابھرا تھا۔

سینئر پولیس اہلکار ارون پال سنگھ نے بتایا کہ سدھیر سوری کو کئی گولیاں لگیں، حملہ آور موقع پر پہنچا اور اسے سب کے سامنے سدھیر کو گولی مار دی۔ قاتل سندیب سنگھ کو گرفتار کرلیا گیا، اس کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق سدھیر سوری کو پولیس کا تحفظ حاصل تھا اور انہوں نے بہت سے سکھوں کو ناراض کر رکھا تھا۔ سدھیر نے سکھ عقیدے اور برادری کے متعلق توہین آمیز بیانات دے رکھے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سدھیر کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ احتجاج کرتے ہوئے کہتا تھا کہ شہر کے ایک کوڑے دان سے ملنے والی ہندو مورتیاں ناپاک ہوگئی ہیں۔

یاد رہے 2020 میں سدھیر سوری کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ہندوستان اور بیرون ملک سکھ برادری کے ناراض اراکین نے ان پر سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں خواتین اور ان کے عقیدے کو بدنام کرنے کا الزام لگایا۔ جولائی میں بھی سدھیر کو اسی طرح کے الزامات میں دوبارہ سزا سنائی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں