حوثی رہنما نے صنعاء میں سکول کے پرنسپل اور اساتذہ پر حملہ کردیا، ویڈیو جاری
"زینبیات" بٹالین کی حوثی خواتین فوجی بھی کارروائی میں شریک
حوثی ملیشیا کے گروپ ’’ یمن میں ایرانی بازو‘‘ کے ایک رہنما نے صنعاء کے ایک نجی سکول کے پرنسپل پر حملہ کردیا ۔ اس کارروائی میں "زینبیات" بٹالین کی حوثی خواتین فوجیوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ اس حملہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک حوثی رہنما اور خاتون حوثی ریکروٹس نجی سکول کے پرنسپل اور اساتذہ پر حملہ کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حوثی رہنما نے سکول پر اس وقت دھاوا بولا جب انتظامیہ نے اس کے بیٹے سے واجب الادا ٹیوشن فیس ادا کرنے کا مطالبہ کردیا تھا۔ حوثی رہنما نے بیٹے نے کئی سال سے فیس ادا نہیں کی تھی۔ انتظامیہ نے طالب علم کو پکڑانے کی کوشش کی تو اس کا والد جو حوثی رہنما ہے نے زینبیات کو ساتھ لے کر سکول پر دھاوا بول دیا۔ یمن کے وزیر اطلاعات معمر الا ريانی نے کہا کہ ایران کی حوثی دہشت گرد ملیشیا نے نام نہاد "زینبیات" کے ساتھ مل کر سکول کی طالبات پر وحشیانہ انداز میں حملہ کیا۔ یہ حملہ یمنیوں کی ہزاروں سال قدیم ورثے، اقدار اور رسم و رواج سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔
1-مشاهد متداولة من اقتحام مليشيا الحوثي الإرهابية التابعة لايران لاحد المدارس في العاصمة المختطفة #صنعاء رفقة ما يسمى "الزينبيات" واعتدائهن على المُدرسات وطالبات المدرسة بصورة همجية تتنافى مع قيم وعادات وتقاليد اليمنيين المتوارثة منذ آلاف السنين pic.twitter.com/mciAIQMjxR
— معمر الإرياني (@ERYANIM) November 4, 2022
انہوں نے مزید کہا دہشت گرد حوثی ملیشیا اپنے زیر تسلط علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کے خلاف جرائم اور اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا ارتکاب کر رہی ہے۔شہریوں کو بلیک میل کرنا، لوٹ مار کرنا، شہریوں کی املاک کو ضبط کرنا اور مقدسات کی بے حرمتی کرنا معمول بنتا جارہا ۔ یمنی عام شہری کیلئے روزی روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس صورتحال پر عالمی برادر ی کی خاموشی اور بے عملی حیران کن ہے۔
الاریانی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور امریکی سفیروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کے اس مجرمانہ طرز عمل کی مذمت کریں ۔ انہوں نے حوثی ملیشیا کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرستوں میں شامل کرنے، اس کے رہنماؤں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی مطالبہ کیا۔