زیلنسکی: ایران جھوٹا، روس میں بڑی تعداد میں ڈرونز بھیج رہا

ہماری افواج روزانہ کم از کم 10 ایرانی طیارے مار گراتی ہیں: یوکرینی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران روس کو محدود تعداد میں ڈرون بھیجنے کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فورسز روزانہ ان میں سے کم از کم 10 طیاروں کو مار گراتی ہیں۔

دوسری طرف ایران کے لیے امریکی ایلچی رابرٹ میلے نے بھی ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ تہران نے صرف اس موسم گرما میں درجنوں ڈرونز روس کو بھیجے ہیں ۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جنگ سے پہلے ان کی محدود تعداد بھیجنے کے بارے میں جو کہا تھا وہ سچ نہیں ہے۔

میلے نے ٹویٹر پر کہا کہ یوکرین کے روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایران کے فوجی اہلکار بھی موجود ہیں اور وہ یوکرینی شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے ان طیاروں کو استعمال کرنے میں ماسکو کی مدد کر رہے ہیں۔

میلے نے کہا کہ ان دلائل کو رد کرنے کیلئے ایران کو "ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے، نئی کہانی گڑھنے کی نہیں"

ایران کا اعتراف

ایران نے ہفتے کے روز پہلی بار اعتراف کیا کہ اس نے روس کو ڈرون بھیجے ہیں، لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس نے اپنے اتحادی کو ڈرونز کی فراہمی یوکرین میں روسی آپریشن سے پہلے کی تھی۔

فروری میں ایران نے کئیف کے ان الزامات کی تصدیق کی تھی کہ ماسکو نے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملوں کے لیے ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کیے تھے۔

سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی (ارنا ) نے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے حوالے سے بتایا کہ "ہم نے روس کو یوکرین کی جنگ سے کئی ماہ قبل محدود تعداد میں ڈرون فراہم کیے تھے۔"

یہ پہلا موقع ہے کہ تہران نے ماسکو کو ڈرونز کی فراہمی کے بارے میں بات کی ہے، اس نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی مسلسل تردید کی ہے۔

یوکرینی وزارت خارجہ نے ردعمل میں ماسکو کے ساتھ ایرانی "گٹھ جوڑ" کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔

یوکرین کی وزارت خارجہ کے ترجمان اولیگ نکولینکو نے فیس بک پر لکھا کہ "تہران کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یوکرین کے خلاف روسی فیڈریشن کی جارحیت کے جرائم میں ملوث ہونے کے نتائج روسی حمایت سے حاصل ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہوں گے۔"

کیف نے کہا کہ تقریباً 400 ایرانی ڈرون پہلے ہی یوکرین میں شہریوں کے خلاف استعمال ہو چکے ہیں اور ماسکو نے تقریباً 2000 اضافی ڈرونز کا آرڈر دیا ہے۔

ماسکو کو ڈرون کی فراہمی کے بارے میں تہران کے اعترافات یوکرین جنگ میں روس اور ایران کے درمیان تعلقات کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ یوکرین کو امریکہ اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے۔ چین براہ راست کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے انکار کرتا ہے۔

دریں اثنا تہران نے ایک بار پھر اس بات کی تردید کی کہ اس نے روس کو میزائل فراہم کیے ہیں اور کہا کہ یہ الزامات "مکمل طور پر جھوٹے" ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے 16 اکتوبر کو خبر دی تھی کہ ایران روس کو میزائل بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس کے جواب میں یورپی یونین اور برطانیہ نے روس کو ڈرون فراہم کرنے کے الزام میں تین ایرانی جنرلوں اور ایک اسلحہ ساز کمپنی پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

ستمبر میں کئیف نے اس معاملے پر تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات کو نمایاں طور پر کم کرنے کا فیصلہ کیا۔

بجلی کی اضافی راشننگ

بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظرہفتہ کو آپریٹر کمپنی نے اعلان کیا کہ اس نے بجلی کی ہنگامی بندش کی صورت نافذ کردی ہے۔

دارالحکومت کئیف سمیت کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں اور شہریوں کی طرف سے بجلی کی کھپت کو کم کرنے کے لیے کئی دن پہلے ہی بجلی منقطع کر دی گئی تھی۔

حالیہ ہفتوں میں کئی روسی حملوں کی وجہ سے توانائی کی تنصیبات کو بری طرح نقصان پہنچا ہے، جس سے رہائشیوں کے سردیوں کو بجلی اور پانی کے بغیر گزارنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ملک کے شمال مشرق میں، یوکرین کے فوجی کمانڈر رومن گریچینکو نے اے ایف پی کو بتایا کہ "صورتحال مستحکم ہے"، اس علاقے میں ڈرونز، آرٹلری اور روسی کمانڈوز کے وقفے وقفے سے حملوں کے باوجود ستمبر میں یوکرین نے دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔

روسی سرحد سے تین کلومیٹر دور سٹاریتسیا کے دوبارہ قبضے میں لیے گئے گاؤں سے بات کرتے ہوئے یوکرینی کمانڈر نے کہا "ہم تمام سمتوں میں پوری رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں