روس کی کاروباری شخصیت ییف گینی پریگوزین نے امریکا میں منعقدہ گذشتہ صدارتی انتخابات میں مداخلت کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسا کرتے رہیں گے۔یہ روس کی کسی ایسی شخصیت کی جانب سے اس طرح کا پہلا اعتراف ہے جسے واشنگٹن نے امریکی سیاست پراثرانداز ہونے کی کوششوں میں باضابطہ طور پرملوّث کیا ہے۔
ان کی کونکورڈ کیٹرنگ فرم کی پریس سروس کی جانب سے روس کے فیس بک کی طرح کے سوشل میڈیا وی کونٹیکٹ پر سوموار کو ایک بیان پوسٹ کیا گیا ہے۔اس میں پریگوزین نے کہا:’’ہم نے (امریکی انتخابات میں) مداخلت کی ہے، ہم مداخلت کررہے ہیں اور ہم مداخلت جاری رکھیں گے۔ احتیاط سے، درست طریقے سے، جراحی سے اور ہمارے اپنے طریقے سے، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کس طرح کرنا ہے‘‘۔
یہ بیان امریکامیں وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک روسی نیوزسائٹ کی جانب سے تبصرے کی درخواست کے جواب میں پوسٹ کیا گیا تھا۔
پریگوزین نے کہاکہ ’’ہمارے نقطہ نظرکے آپریشن کے دوران، ہم ایک ہی وقت میں گردے اور جگر دونوں کو ہٹادیں گے‘‘۔انھوں نے اپنے خفیہ تبصرے کی وضاحت نہیں کی۔
پریگوزین کواکثر’’صدرپوتین کا شیف‘‘کہاجاتا ہے کیونکہ ان کی کیٹرنگ کمپنی کریملن کے معاہدوں پر عمل درآمد کرتی ہے۔ان پر باضابطہ طور پر روس میں قائم ’’ٹرول فارمز‘‘کواسپانسر کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے جو امریکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
جولائی میں امریکی محکمہ خارجہ نے ’’انتخابات میں مداخلت میں ملوث ہونے‘‘کے سلسلے میں پریگوزین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پرایک کروڑ ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا تھا۔روسی کاروباری پہلے ہی امریکا،برطانیہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کی زد میں آچکے ہیں۔
پریگوزین نے ماضی قریب میں خود کوکبھی زیادہ نمایاں نہیں کیا تھا اوروہ بالعموم گوشہ گم نامی میں رہنا پسند کرتے تھےلیکن یوکرین کی جنگ کے دوران میں انھوں نے روس کے جرنیلوں کی کارکردگی پرکھلے عام تنقید کی ہے اور اس طرح وہ منظرعام پرآگئے ہیں۔
ستمبرمیں انھوں نے کریملن سے وابستہ ویگنرگروپ کی بنیادرکھنے کا اعتراف کیا تھاجوشام، افریقا اور یوکرین میں سرگرم ہے۔ گذشتہ جمعہ کواس گروپ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں دفاعی ٹیکنالوجی کا ایک مرکز کھولاتھا جوپریگوزین کی جانب سے اپنی فوجی ساکھ کو اجاگرکرنے کے لیے ایک اور قدم ہے۔