انڈونیشیا میں سعودی عرب کی ترقیاتی شراکت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

منگل کو G20 رہ نماؤں کا سربراہی اجلاس انڈونیشیا کے شہر بالی میں شروع ہوا۔ سربراہی اجلاس میں سعودی عرب کے وفد کی سربراہی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کر رہے تھے۔

دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے رہ نماؤں نے اس سربراہی اجلاس میں مشکل اور پیچیدہ امور پر تبادلہ خیال کیا، جس میں اقتصادی کساد بازاری اور یوکرین کی جنگ بھی شامل ہے، جس نے توانائی اور خوراک کے بے مثال بحران کو جنم دیا۔

سعودی عرب اور انڈونیشیا دونوں برادرممالک ہیں اور دونوں کے درمیان اچھے اقتصادی تعلقات رہے ہیں۔ انڈونیشیا کی ترقی میں سعودی عرب کا بھی کردار ہے۔ مملکت نے 1976ء سے سعودی فنڈ برائے ترقی کے ذریعے انڈونیشیا میں اپنے مختلف ڈومینز اور متعدد شکلوں میں پائیدار ترقی کے ستونوں کو مضبوط بنانے میں تعاون کیا ہے۔

یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے سعودی حکومت کی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ اس تعاون نے سعودی ترقیاتی فنڈ کو جمہوریہ انڈونیشیا میں ٹرانسپورٹ، مواصلات، زراعت، انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سمیت12 مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رراہ ہموار کی۔ سعودی ترقیاتی فنڈ نے انڈونیشیا میں مجموعی طور پر401.6ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم صرف کی۔

یہ منصوبے اور پروگرام انڈونیشیا کی حکومت اور عوام کی حمایت میں سماجی ترقی اور معاشی خوشحالی میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔

مملکت کے پاس سنہ 1975 سے سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کے ذریعے ترقیاتی میدان میں ایک بھرپور تاریخی ریکارڈ بھی ہے، جو بین الاقوامی ترقی میں ایک بازو رہا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ شراکت کے علاوہ مختلف انسانی اور ترقیاتی شعبوں میں اس نے برادری ممالک کی مدد کی ہے جس سے ان ملکوں کی ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہوا۔

اہم شعبوں میں سعودی ترقیاتی فنڈ کی طرف سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں اور پروگراموں نے حالات زندگی کو بہتر بنانے اور لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ فنڈ نے بہت سی سعودی کمپنیوں اور کنسلٹنٹس کو فنڈ کے ذریعے مالی اعانت سے چلنے والے بین الاقوامی ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے مقامی مواد کی حمایت بھی کی۔

سعودی ترقیاتی فنڈ نے اپنے قیام کے48 سال سے زائد عرصے کے دوران دنیا کے 84 ترقی پذیر ممالک میں 697 سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں اور پروگراموں پر کام کیا۔ یہ منصوبے اور پروگرام ترقی پذیر ممالک میں استحکام اور خوشحالی کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں