برطانیہ روس کی جارحیت کے مقابلے میں یوکرین کادفاع جاری رکھے گا:وزیرخارجہ
روس کو یوکرین پرحملوں کے لیے ڈرون مہیّاکرنے پرایرانی افراد اوراداروں پرپابندیاں عایدکی جائیں گی
برطانوی وزیرخارجہ جیمزکلیورلی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی مدد جاری رکھے گا اورروس کو ڈرون مہیّاکرنے والے ایرانی افراد اورکمپنیوں پرپابندیاں عایدکرے گا۔
انھوں نے یہ بات العربیہ سےایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ روس نے ایرانی ڈرونز کے ذریعے یوکرین میں شہریوں کونشانہ بنایا ہے۔روس کوڈرونزمہیاکرنے والے افراد اور کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عاید کی جائیں گی۔
گذشتہ ماہ یوکرین کی جنگ میں ایران کے ملوّث ہونے کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھاکہ ایران نے روس کو ڈرون بھیجے تھے اورانھیں اس نے پڑوسی ملک کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیاتھا۔ابتدائی طورپران دعووں کو مسترد کرنے کے بعد،ایران نے بالآخراعتراف کیا کہ اس نے فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے روس کو ڈرون بھیجے تھے۔
ایران نے حال ہی میں روس کومزیدڈرونزکے علاوہ زمین سے زمین پرمارکرنے والے میزائل مہیّاکرنے کا بھی وعدہ کیا تھا،اس اقدام نے امریکااور دیگرمغربی طاقتوں کو مشتعل کردیا ہے۔وہ اس جنگ میں یوکرین کی حمایت کررہے ہیں۔
یوکرین نے ایرانی ڈرونز کا توڑکرنے کے لیے امریکاسے اپیل کی ہے کہ وہ اسے طاقتورڈرون اور میزائل کیا کرے،تاکہ روس کے ایرانی ساختہ ڈرونز کے ذخیرے کے خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے۔
برطانوی وزیرخارجہ نے انٹرویو میں کہا کہ ’’اس تنازع کے دوران میں ہم نے جونکتہ اٹھایا ہے،وہ یہ ہے کہ روس کو مغرب سے کوئی خطرہ نہیں،روس کو نیٹوسے کوئی خطرہ نہیں۔یہ جنگ یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت کی وجہ سے ہے‘‘۔
’’ہم نے یوکرین کوروسی حملے کے خلاف اپنا دفاع کرنے میں مدد کی ہےاورہم یہ مدد جاری رکھیں گے اور اب روس کو دھمکی نہیں دیں گے۔ہم جوکَہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ولادی میرپوتین کا رویہ یہی ہے کہ یوکرین اپنا دفاع کر رہا ہے اوروہ بھرپورجوش و خروش کے ساتھ اپنا دفاع کررہا ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا۔
ان کایہ تبصرہ اختتام ہفتہ پربحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ کے موقع پر سامنے آیا ہے۔
ایران میں احتجاجی مظاہرے
ایران میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پربرطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ایرانیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرتا ہے۔
انھوں نےکہا کہ ’’میں ایرانی قیادت کویہ پیغام دیناچاہوں گا،وہ یہ ہے کہ اپنے لوگوں کی بات سنیں۔وہ تبدیلی کا رونارورہے ہیں اورہم ایرانیوں سے یہ کَہ رہے ہیں کہ یہ ان کا چیلنج ہے، یہ ان کی ذمہ داری ہے، اورانھیں اپنے لوگوں کی بات سنناچاہیے‘‘۔
ایران میں 16 ستمبرکوکردنژاد 22 سالہ ایرانی خاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرحراست موت کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔انھیں خواتین کے لیے ضابطۂ لباس کی مبیّنہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتاری کیا گیا تھا۔ایران نے برطانیہ، اسرائیل اورامریکاسمیت اپنے غیر ملکی دشمنوں پر بدامنی پھیلانے کا الزام عایدکیا ہے۔
جیمزکلیورلی نے کہاکہ ’’میرے خیال میں ہم ایرانی حکومت کی جانب سے جو کچھ دیکھ رہے ہیں،وہ یہ ہے کہ وہ ایرانی عوام کے ساتھ اپنے نارواسلوک کے اثرات پردوسرے ممالک کو مورد الزام ٹھہرانا چاہتی ہےاوران کی آوازیں نہیں سنناچاہتی ہے۔
انھوں نے کہاکہ ایران اپنے طرزِعمل سے مُنھ موڑنے کی کوشش کررہا ہے، وہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک کو موردِالزام ٹھہرانے کی کوشش کررہا ہے۔انھوں نے کہاکہ ایران کے لیے قیادت کاانتخاب ایرانی عوام کو کرناہے۔ ہم نے یہ یقینی بنایا ہے کہ ہم ایرانی خواتین کی بہادری کو اجاگرکریں، تاکہ ہم ان تبدیلیوں کو اجاگرکرنے میں ان کی مدد کریں جو وہ چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ’’ہم ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں لیکن یہ ایرانی عوام کی طرف سے ایرانی حکومت کوایک پیغام بھیجنے کی ایک مہم ہے اور یہ ان کا انتخاب ہے اور درست طور پر ان کا انتخاب ہے کہ وہ اپنی حکومت سے کیا کہناچاہتے ہیں‘‘۔
پولينڈ
گذشتہ منگل کو پولینڈ پرداغے گئے میزائلوں کے بارے میں پوچھے جانے پر کلیورلی نے کہاکہ’’ اس ضمن میں ہم ابھی تحقیقات کی حتمی تفصیل کا انتظار کررہے ہیں‘‘۔
’’لیکن ہم جوبات جانتے ہیں،وہ یہ کہ میزائل اور میزائل دفاعی نظام یوکرین پرروس کے حملے اور روس کی طرف سے یوکرین میں شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے براہ راست جواب میں ہیں۔اپنے ہمسایہ ملک کے خلاف روس کی جارحیت کی وجہ سے یورپ کی فضا میں صرف میزائل موجودہیں۔ہم یوکرین کی حمایت جاری رکھیں گےکیونکہ وہ اپنا دفاع کررہاہے اوراسے جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے‘‘۔