خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ ایران کے مذاکرات کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ مذاکرات سے امریکا کے ساتھ تہران کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

خامنہ ای نے ہفتے کے روز ایک تقریر میں امریکا کے ساتھ بات چیت کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے تاکہ جاری مظاہروں کے دوران میں تہران پردباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

انھوں نے کہا کہ ’’کچھ لوگ سیاسی تفہیم کا دعویٰ کرتے ہیں،لیکن اخبارات میں اورآن لائن ان کے تجزیے فی الواقع اداس کردیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان فسادات کو ختم کرنے کے لیے آپ کوامریکاکے ساتھ اپنے مسائل حل کرنا ہوں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے امریکا کے ساتھ ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ امریکا تو ایران سے تاوان چاہتا ہے مگرکوئی بھی ایرانی ، جو جوش وجذبہ رکھتا ہے وہ اس تاوان کوادا کرنے کوتیار نہیں ہوگا۔امریکا چاہتا ہے کہ ایرانی قوم اپنی تمام سرخ لکیریں عبورکرلے‘‘۔

امریکااورایران کے مابین بالواسطہ مذاکرات کا مقصد 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اپریل 2021 میں ویانا میں مذاکرات شروع ہوئے تھے لیکن یہ نتیجہ خیزثابت نہیں ہوسکے اور اب تعطل کا شکار ہیں۔

خامنہ ای نے اپنے بیان میں حکومت مخالف مظاہرین کوایسے لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروہ قراردیا ہے جو ان کے بہ قول ’’یا تو بے خبر،جاہل ہیں یا کرائے کے سپاہی‘‘ہیں۔

ایران بھر میں 16 ستمبر سے 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعدمظاہرے جاری ہیں۔انھیں تہران میں اخلاقی پولیس نے مبیّنہ طورپرملک میں نافذالعمل سخت ضابطہ لباس پر عمل نہ کرنے پر حراست میں لیا تھا اور گرفتاری کے تین روز بعد ان کی پولیس کے زیرحراست ہی موت واقع ہوگئی تھی۔

مظاہرین اب شیعہ مذہبی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں اوران کی احتجاجی تحریک 1979 میں برپا شدہ انقلاب کے بعد سے حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

اوسلو میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس(آئی ایچ آر) کے مطابق مظاہروں میں سکیورٹی فورسز نے 51 بچّوں اور27 خواتین سمیت 416 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ایرانی حکومت ملک میں جاری بدامنی کا الزام غیرملکی طاقتوں بالخصوص امریکا اور اسرائیل پرعاید کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں