بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کا احتجاجی مظاہرہ، شو آف پاور

ڈھاکا کا گلاب باغ سپورٹس کمپلیکس ’’شیخ حسینہ ووٹ چور‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے ڈھاکا میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

احتجاج کی خاطر آنے والے والے مظاہرین کی بڑی تعداد ہفتے کے روز اردگرد کی سڑکوں سےگلاب باغ سپورٹس کمپلیکس میں جمع ہوئی، جہاں مظاہرے کے دوران انہوں نے ’شیخ حسینہ ووٹ چور‘ کے نعرے لگائے۔

یاد رہے منگل کے روز دارالحکومت ڈھاکا میں حزب اختلاف کی جماعت" بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی" کے ہیڈ کوارٹر پر سکیورٹی فورسز کے حملے کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ حملے میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہو ئے۔

نیشنلسٹ پارٹی کے دو رہنما عوام کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں جمعہ کے روز گرفتار کرلیے گئے تھے۔ جماعت کے دعویٰ کے مطابق 30 نومبر کے بعد سے تقریباً 2000 کارکنوں اور حامیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جس کا مقصد احتجاجی مظاہرے کو طاقت کے ذریعے روکنا ہے۔

مغربی ممالک اور اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کی پرشدید سیاسی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش تیزی سے اقتصادی ترقی کرنے والے ایشیائی ممالک میں سرفہرست سمجھا جاتا ہے۔

ڈھاکا اگرچہ طویل عرصے سے امریکہ کا حلیف چلا آ رہا ہے۔ لیکن حالیہ چند برسوں میں شیخ حسینہ شیخ چین سے مضبوط روابط استوار کرنے کی وجہ سے بیجنگ نے ملک میں انفراسٹرکچر کے متعدد منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر مالیت کی فائنانسنگ کر رکھی ہے۔

حالیہ مہینوں میں ملک بھر میں ہونے والی بجلی کی بندش اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث متعدد مظاہرے ہوئے ہیں، جن میں وزیر اعظم سے فوری استعفے اور نگراں حکومت کے تحت نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بی این پی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’’ہفتے کی صبح تک تقریباً 200,000 لوگ احتجاجی ریلی کا حصہ بن چکے تھے۔‘‘

ترجمان ظہیر الدین سوابان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ کو بتایا: "ہمارا بنیادی مطالبہ شیخ حسینہ کا استعفیٰ، پارلیمان کی تحلیل کے علاوہ ایک غیر جانبدار نگران حکومت کے ذریعے آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔"

ڈھاکا سٹی پولیس کے ترجمان فاروق احمد نے مظاہرین کی تعداد سے متعلق پارٹی کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ’’اسٹیڈیم میں 30,000 سے زیادہ افراد کے بیٹھنے کی قطعاً گنجائش نہیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک کسی پرتشدد کارروائی کی اطلاع نہیں، تاہم احتجاج کے مقام پر ریپڈ ایکشن فورس اور انسداد دہشت گردی یونٹ کے اہلکار تربیت اہلکار یافتہ کتوں کے ہمراہ ہمہ وقت چوکس حالت میں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال پر قابو پایا جا سکے۔

پولیس کی جانب سے دارالحکومت کی طرف جانے والی سڑکوں پر چوکیاں قائم کرنے کے علاوہ 20 ملین آبادی کے اس شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے تھے۔

عام دنوں کے مقابلے میں ڈھاکا شہر کی پرہجوم سڑکوں پر احتجاج کی وجہ سے بہت کم رکشے اور کاریں دیکھنے میں آئیں۔ دوسری طرف بی این پی کے عہدیداروں کی جانب سے حکومت پر ٹرانسپورٹ کے شعبے میں غیر علانیہ ہڑتال کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے تاکہ عوام الناس احتجاجی ریلی میں شرکت سے باز رہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے کئی کارکنوں کی جانب سے جمعہ کے روز اپوزیشن جماعت کے کارکنوں پر حملے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں