روس اور یوکرین

ہماراانفراسٹرکچرخطرے میں ہے:زیلنسکی،ایرانی ڈرونزکا تذکرہ امریکی کانگریس میں کیسے ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی جانب سے یوکرین پر حملے میں ایرانی ڈرونز کے استعمال کا تذکرہ امریکی کانگریس میں پہنچ گیا۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد پہلی مرتبہ بیرون ملک کے دورہ پر روانہ یوکرینی صدر زیلنسکی نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس میں گفتگو کی۔ زیلنسکی نے کہا ایرانی ڈرونز یوکرین کے انفرا سٹرکچر کیلئے خطرہ بن گئے ہیں۔

اہم اہداف پر بمباری

صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی فوج نے یوکرین میں اہم اہداف پر بمباری کے لیے ایرانی ڈرونز کا استعمال کیا۔

اس کے باوجود یوکرینی صدر نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے سامنے اپنی تقریر میں زور دیا کہ یوکرین کبھی بھی روسی افواج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی افواج اپنی پوزیشنوں پر ثابت قدم رہیں گی۔

سرکاری شناخت

یاد رہے کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے گزشتہ اکتوبر میں اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا تھا کہ ایرانی ڈرونز کے یوکرین جنگ میں استعمال کے بارے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ مغرب کا کہنا ہے کہ روس نے یہ ڈرونز یوکرین کے خلاف جنگ کے فریم ورک میں حاصل کئے ہیں۔ اس سے قبل کیف نے یہ بھی کہا تھا کہ ماسکو نے ایران میں قدس ایوی ایشن کی جانب سے تیار کردہ ڈرونز ’’مہاجر‘‘ اور ’’شاہد‘‘ بھی حاصل کر لئے ہیں۔

روس یوکرین میں ایرانی ڈرونز استعمال کرتا

یوکرینی صدر نے زور دیا کہ کمپنی ’’قدس ایوی ایشن‘‘ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کے تحت اثاثے منجمد کرنے کی پابندیوں کے تحت آتی ہے اور روس قدس ایوی ایشن کمپنی کے ساتھ معاملات کرکے اس بین الاقوامی پابندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں یوکرین نے بارہا اپنے شہروں پر روس کی جانب سے ایرانی ’’شاہد ۔ 136 ‘‘ ڈرونز کے استعمال کی اطلاع دی ہے۔ تہران نے یہ اعتراف بھی کرلیا ہے کہ اس نے یہ ڈرونز روس کو فراہم کئے تھے تاہم یہ فراہمی یوکرین پر روسی حملے سے قبل کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں