روس اور یوکرین

روس یوکرین کے تنازع پر مذاکرات کو تیار ہے: صدر پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ان کا ملک یوکرین میں جنگ میں ملوّث تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کوتیار ہے لیکن کیف اور اس کے مغربی حامیوں نے مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

صدرپوتین نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن چینل روسیا ون سے نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ ’’ہم قابل قبول حل کے لیے ہر ایک کے ساتھ بات چیت کوتیار ہیں لیکن یہ اب دوسرے فریق پرمنحصر ہے اور ہم مذاکرات سے انکار کرنے والے نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ روس یوکرین میں’’صحیح سمت‘‘ میں کام کررہا ہے کیونکہ مغرب، امریکاکی قیادت میں، روس کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔واشنگٹن اس بات سے انکارکرتا ہے کہ وہ روس کے خاتمے کی سازش کر رہا ہے۔

’’مجھے یقین ہے کہ ہم صحیح سمت میں کام کر رہے ہیں، ہم اپنے قومی مفادات، اپنے شہریوں، اپنے لوگوں کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں۔ہمارے پاس اپنے شہریوں کی حفاظت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مغرب کے ساتھ جیو پولیٹیکل تنازع خطرناک سطح پر پہنچ رہا ہے، صدرپوتین نے کہا:’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ تنازع اتنا خطرناک ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ مغرب نے 2014 میں میدان انقلاب کے مظاہروں میں روس نواز صدر کا تختہ الٹ کر یوکرین میں تنازع کا آغاز کیا تھا۔

اس انقلاب کے فوراً بعد ہی روس نے کریمیا کا الحاق کرلیاتھا اور روسی حمایت یافتہ علاحدگی پسند قوتوں نے مشرقی یوکرین میں فوج کے خلاف جنگ شروع کردی تھی۔

صدرپوتین نے کہا،’’دراصل، یہاں بنیادی چیز ہمارے جیو پولیٹیکل مخالفین کی پالیسی ہے جس کا مقصد تاریخی طور پرروس کو الگ تھلگ کرنا ہے‘‘۔

انھوں نے یوکرین میں ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘کو ایک اہم لمحہ قرار دیا جب ماسکو آخر کارایک مغربی بلاک کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے روس کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یوکرین اور مغرب کا کہنا ہے کہ پوتین کے پاس سامراجی طرز کے قبضے کی جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے۔اس جنگ نے پورے یوکرین میں مصائب اور موت کابیج بویا ہے جبکہ پوتین نے روس کو ایک 'منفرد ملک' قرار دیا اور کہا کہ اس کے عوام کی اکثریت اس کے دفاع کے لیے متحد ہے۔

پوتین نے کہا:’’جہاں تک اہم حصے کاتعلق ہے۔ہمارے 99.9 فی صد شہری، ہمارے لوگ جو مادرِوطن کے مفادات کے لیے سب کچھ دینے کوتیارہیں۔یہاں میرے لیے کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔یہ صرف ایک بار پھر مجھے قائل کرتا ہے کہ روس ایک منفرد ملک ہے اور ہمارے پاس غیرمعمولی لوگ ہیں۔روس کے وجود کی پوری تاریخ میں اس کی تصدیق کی گئی ہے۔

پوتین نے مزید کہا:’’انھیں 100 فی صد یقین ہے کہ ان کی افواج پینٹاگون کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو تباہ کردیں گی جسے امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین بھیجنے کا وعدہ کیا ہے‘‘۔

’’یقینا، ہم اسے تباہ کر دیں گے، 100 فی صد!‘‘پوتین نے پیٹریاٹ میزائل بیٹری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

روس کے 24 فروری کو یوکرین پر حملے نے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں سب سے زیادہ مہلک تنازع اور 1962 کے کیوبا میزائل بحران کے بعد ماسکو اور مغرب کے مابین سب سے بڑا تصادم شروع کیا ہے۔اب تک اس جنگ کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔

کریملن کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک لڑے گا جب تک اس کے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے جبکہ کیف کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک کہ ہر روسی فوجی کو اپنے تمام علاقوں سے بے دخل نہیں کر دیا جاتا، بشمول ریاست کریمیا جسے روس نے 2014 میں ضم کر لیا تھا۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے رواں ماہ شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگرچہ زیادہ ترتنازعات مذاکرات سے ختم ہوتے ہیں لیکن سی آئی اے کا اندازہ یہ تھا کہ روس ابھی تک جنگ کے خاتمے کے لیے حقیقی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔

یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی کے ایک مشیر نے کہاکہ پوتین کو حقیقت کی طرف واپس آنے اور یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ روس ہی تھا جو کوئی مذاکرات نہیں چاہتا تھا۔

میخائل پوڈولیاک نے ٹویٹر پر کہا کہ روس نے اکیلے ہی یوکرین پر حملہ کیا اور شہریوں کو قتل کررہا ہے۔ روس مذاکرات نہیں چاہتا لیکن وہ ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں