یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی نے پیر کے روز بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ان سے یوکرین میں’’امن فارمولے‘‘کے نفاذمیں بھارت کی مدد طلب کی ہے۔
زیلنسکی نے ٹویٹرپرلکھاکہ ’’میں نے وزیراعظم نریندرمودی سے فون پربات کی اور جی 20 کی کامیاب صدارت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہارکیا ہے۔ اسی پلیٹ فارم پرمیں نے امن فارمولے کا اعلان کیا تھا اوراب میں اس پر عمل درآمد میں بھارت کی شرکت پربھروساکرتاہوں‘‘۔
I had a phone call with @PMOIndia Narendra Modi and wished a successful #G20 presidency. It was on this platform that I announced the peace formula and now I count on India's participation in its implementation. I also thanked for humanitarian aid and support in the UN.
— Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) December 26, 2022
اس سے قبل یوکرین نے روس کواقوام متحدہ سے مکمل طور پرنکالنے کا مطالبہ کیا ہے جہاں ماسکو سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرسکتا ہے۔
کیف میں وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا:’’یوکرین اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے یہ مطالبہ کرتاہے،روسی فیڈریشن کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے محروم کیا جائے اوراسے مجموعی طورپراقوام متحدہ سے خارج کیا جائے‘‘۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ روس سنہ1991ء میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعدسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یو ایس ایس آرکی نشست پرغیرقانونی طور پرقابض ہے۔