افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بدھ کی سہ پہر وزارتِ خارجہ کے باہر خود کش بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اورچالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
کابل پولیس کے سربراہ خالد زدران نے کہا کہ افغان وزارتِ خارجہ کے باہر سڑک پرایک دھماکا ہوا ہے جس میں "ہمارے پانچ شہری شہید" اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ مسلمانوں پراس طرح کے بے مقصد اور بزدلانہ حملے کی مذمت کرتی ہے۔ اس کے مجرموں کوتلاش کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔
طالبان کے زیرانتظام وزارت اطلاعات کے ایک عہدہ داراستاد فریدون نے بتایاکہ بمبار نے وزارتِ خارجہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہا اور اس نے وزارت کے باہرخود کو دھماکے سے اڑادیا۔
فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے قبل ازیں ان کے حوالے سے اس خودکش حملے میں 20 ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی۔سوشل میڈیا پرجاری کردہ ایک ویڈیو کے مطابق وزارت کے اونچی دیواروں والے احاطے کے باہر سڑک پرلاشیں بکھری پڑی تھیں۔کچھ زخمی لوگ زمین پرگرپڑے تھے اورمدد کے لیے چیخ پکارکررہے تھے۔
افغان وزارتِ خارجہ کابل کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں واقع ہے۔اس کے باہردھماکے کے نتیجے میں اس کی عمارت کوشدید نقصان نہیں پہنچا ہے اور اس سے نزدیک واقع وزارتِ داخلہ کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ترکی اورچین سمیت بعض ممالک کےسفارت خانے بھی کابل کے اسی علاقے میں واقع ہیں۔
طالبان انتظامیہ کے نائب وزیراطلاعات وثقافت مہاجر فراہی نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج وزارت خارجہ میں چینی وفد موجود ہونا تھا لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ دھماکے کے وقت وہ وہاں موجود تھے یا نہیں‘‘۔تاہم وزیر اعظم کے دفتر کے ایک سینیرعہدیداراحمداللہ متقی نے کہا کہ حملے کے وقت وزارت میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں تھا۔
انھوں نے بھی اس بات کا اعادہ کیاکہ خودکش بمباروزارت میں داخل ہونا چاہتا تھا لیکن وہ ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔سکیورٹی اہلکاروں نے گیٹ پراس کا سراغ لگالیا تھا۔اس دوران میں بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔یہ بم دھماکا دفتری اوقات کے اختتام پرہوا ہے۔
اٹلی کی ایک غیرسرکاری تنظیم کے زیرانتظام ایمرجنسی اسپتال نے کہا ہے کہ اس کے پاس بم دھماکے کے 40 سے زیادہ زخمیوں کولایاگیا ہے۔
اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے کابل میں اس بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔اسلام آبادمیں دفترخارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس بم ھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم افغان بھائیوں کے ساتھ ہیں۔
افغانستان میں برطانوی مشن کے ناظم الامورہیوگو شارٹر نے کہا کہ برطانیہ تشدد کے اس طرح کے احمقانہ اور اندھادھند اقدامات کو مسترد کرتا ہے۔
کسی گروپ نے فوری طور پراس خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔طالبان کے زیرانتظام انتظامیہ کوداعش کے جنگجوؤں کی مسلح شورش کا سامنا ہے۔انھوں نے کابل میں بعض مقامات پرغیرملکیوں کوبھی نشانہ بنایا ہے۔ان میں روس اور پاکستان کے سفارت خانے اور چینی تاجروں کی طعام گاہ ایک ہوٹل بھی شامل ہے۔