چین کے محکمہ صحت کے حکام نے ہفتے کے روز بتایا ہےکہ صرف ایک ماہ میں کووِڈ کےنتیجے میں قریباً 60،000 اموات ہوئی ہیں۔چینی حکومت کی جانب سے دسمبر کے اوائل میں وائرس کی پابندیوں میں نرمی کے بعد ہلاکتوں کے جاری کردہ یہ پہلے اعدادوشمار ہیں۔
چین کے قومی صحت کمیشن کے تحت بیورو آف میڈیکل ایڈمنسٹریشن کے سربراہ جیاؤ یاہوئی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین میں 8 دسمبر 2022 سے 12 جنوری تک کووڈ سے متعلق 59,938 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
یہ اعدادوشمار صرف طبی مراکزمیں ریکارڈ کی جانے والی اموات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
جیاؤ نے کہا کہ اس میں وائرس کی وجہ سے براہ راست نظام تنفس کی ناکامی کی وجہ سے ہونے والی 5،503 اموات اور کووِڈ سے بنیادی بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی 54،435 اموات شامل ہیں۔
چین پردسمبر کے اوائل میں زیرو کووڈ پالیسی ترک کرنے کے بعد سے وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد کو کم رپورٹ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔تاہم چین کے محکمہ صحت کے حکام نے گذشتہ بدھ کوکہا تھا کہ صحیح تعداد پر غور کرنا "ضروری نہیں" ہے۔
بیجنگ نے اس سے قبل کووِڈ سے ہونے والی اموات کی درجہ بندی کے طریق کار پرنظر ثانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف ان لوگوں کی گنتی کرے گا جو خاص طور پروائرس کی وجہ سے سانس کی بندش کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں لیکن عالمی ادارہ صحت نے سے اس پر تنقید کی تھی اورکہا تھا کہ یہ نئی تعریف ’بہت محدود‘ ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس ادھانوم غیبریوسس نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ چین سے ہسپتال میں داخل ہونے اور اموات کے حوالے سے مزید تیزرفتار،باقاعدگی سے اور قابل اعتماد اعداد و شمار طلب کر رہا ہے۔
ہفتے کے روز چین کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی اوسط عمر80.3 سال تھی جبکہ 90 فی صد سے زیادہ اموات کی عمر 65 سال سے زیادہ تھی۔انھوں نے کہا کہ زیادہ تر افراد مختلف عوارض حالات کا شکار تھے۔چین میں 60 سال سے زیادہ عمر کے لاکھوں افراد ویکسین سے محروم ہیں۔