ڈیووس:شہزادہ فیصل کاسعودی عرب کی معیشت، تیل، ایران اورامریکا سےتعلقات پراظہارِخیال

سعودی عرب رواں سال دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بننے جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے منگل کے روز ڈیووس میں منعقدہ سالانہ عالمی اقتصادی فورم میں کہا ہے کہ مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے موجودہ استحکام سے ظاہرہوتا ہے کہ سعودی عرب نے اوپیک سے مل کر تیل کی پیداوار کے اہداف کوکم کرنے کا درست فیصلہ کیا تھا۔اوپیک پلس نے گذشتہ سال امریکا کی مخالفت کے باوجود تیل کی یومیہ پیداوارمیں کمی کا فیصلہ کیا تھا جبکہ امریکا عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم سے کم رکھنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا تھا۔

انھوں نے توانائی کے تحفظ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا:’’توانائی کی حفاظت بالکل اہم ہےاورہم مملکت میں جو محسوس کرتے ہیں،وہ یہ ہے کہ استحکام اس توانائی کی سلامتی کی کلید ہے۔لہٰذا ہمیں یقین ہے کہ اوپیک پلس کی کامیابیوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ تیل کو نسبتاً مستحکم قیمت میں مہیاکرنے میں کامیاب رہا ہے۔اس کا صارفین اور تیل پیداکنندگان دونوں کی جانب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ’’اس عبوری مدت میں، ہمیں روایتی توانائیوں کی مستحکم ترسیل برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اوراس کی قیمت اس طرح مقرر کی جائے جو اس استحکام کو یقینی بنائے اور میرے خیال میں ہم ایسا کرنے میں کامیاب رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے سعودی عرب کے معاشی ماڈل پربھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ اس سال دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بننے جا رہا ہے۔

وزیرخارجہ نے مملکت کی معاشی میدان میں کامیابیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان میں سعودی ویژن 2030 ء پرکامیابی سے عمل درآمد،ہائیڈرو کاربن کی آمدن پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت کی وسیع ترمعاشی اصلاحات اور اقدامات اورتیل کی معیشت سے ماورا آمدن کے ذرائع سے متعلق منصوبوں کے بارے میں بتایا۔

انھوں نے مزید کہا:’’یہ عمل جاری ہے۔ ہم معیشت کے ہر قسم کے شعبوں کو فعال کررہے ہیں۔ مملکت میں بے روزگاری میں نمایاں کمی آئی ہے، خاص طور پر خواتین کی افرادی قوت میں شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے‘‘۔

ايران

شہزادہ فیصل نے ایران کے ساتھ کشیدگی پربھی گفتگوکی۔ انھوں نے کہا کہ’’ جب ایران کی بات آتی ہے تو آپ جانتے ہیں کہ ہم نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ہم ایران اوراپنے ہمسایوں کے ساتھ بات چیت کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ہم اس بات پرپختہ یقین رکھتے ہیں کہ بات چیت اختلافات کو حل کرنے کا بہترین راستہ ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم سعودی عرب میں جو کچھ کر رہے ہیں اور خطے کے دیگر ممالک بالخصوص خلیج تعاون کونسل کے ممالک اپنی معیشتوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور جغرافیائی سیاست کے بجائے ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنے ہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک مضبوط اشارہ ہے کہ روایتی دلائل اور روایتی تنازعات سے ہٹ کر مشترکہ خوش حالی کی جانب ایک راستہ موجود ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جتنا زیادہ ہم خطے میں تعاون کااحساس پیدا کر سکتے ہیں، اتنا ہی ہم مل کرکام کرسکتے ہیں، اتنا ہی زیادہ ہم نہ صرف اپنے لوگوں کے لیے بلکہ اپنے قریبی خطے اور اس سے آگے کے لیے بھی خوشحالی لا سکتے ہیں۔

سعودی عرب ،امریکا تعلقات

وزیرخارجہ ان قیاس آرائیوں کے بارے میں سوال کا جواب دیا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کچھ چیلنجز موجود ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ ہماری مضبوط شراکت داری ہے اور ہم اس شراکت داری کے ذریعے کام جاری رکھیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہمیشہ ہم نہیں ہیں اوراس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہمیشہ متفق ہیں بلکہ ہم کبھی کبھی اختلاف کرتے ہیں‘‘۔

سعودی وزیرخارجہ نے مزید کہا:’’ہم یقینی طور پرتیل کی مارکیٹ کے معاملے پر متفق نہیں ہیں۔ہم سمجھتے ہیں اور میرے خیال میں اس معاملے میں ہمارا مؤقف درست تھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اب کیا دیکھ رہے ہیں۔تیل کی قیمتیں بدستورمستحکم ہیں اور تیل کی وسیع ترمارکیٹ اوردنیا کی وسیع ترمعیشتوں کے لیے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس استحکام کو جاری رکھیں گے اور یقینی بنائیں گے‘‘۔

شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ ’’ہم امریکا میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مضبوط مکالمہ کرنے جا رہے ہیں، ہم کسی بھی مسئلے پر کام جاری رکھیں گے۔مجموعی طور پرامریکا سے تعلقات نے نہ صرف ہم دونوں ممالک بلکہ ہمارے خطے کو بھی نمایاں فائدہ پہنچایا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں