مغربی ملکوں کی پاسداران انقلاب کےاقتصادی ڈھانچے پرپابندیاں،ایران کی جواب دینےکی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران نے مغربی ملکوں کی طرف سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

ایران میں گذشتہ ستمبر میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ملک ہونے والے مظاہروں کے پس منظر میں یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سےلگائی گئی نئی پابندیوں کا جواب دینے کا عہد کیا۔

برسلز اور لندن نے ایران میں حکام اور اداروں کے خلاف پابندیوں کے ایک نئے پیکج کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ یہ پابندیاں تہران میں مذہبی پولیس’گشت ارشاد‘ کے ہاتھوں دوران حراست جاں بحق ہونے والی لڑکی مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو کچلنے کے رد عمل کے طور پرلگائی گئی ہیں۔ مہسا امینی کو ایرانی مذہبی پولیس نے حکومت کی طرف سے عاید کردہ ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کےالزام میں گرفتار کیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ "یورپی یونین اور برطانوی حکومت کا یہ اقدام ایران کی صورت حال کو صحیح طریقے سے سمجھنے میں ناکامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کے حوالے سے ان کی پریشانیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔"

ایک بیان میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران "ایسی ناکام پالیسیوں پر باہمی ردعمل کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے اور جلد ہی یورپی یونین اور برطانیہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں اور دہشت گردی کو فروغ دینے والوں کے خلاف نئی پابندیوں کی فہرست کا اعلان کرے گا۔"

منگل کے روز براعظمی بلاک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب 37 ایرانی افراد اور اداروں کے نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔اس فہرست میں ایرانی پاسداران انقلاب کے چار فوجی کمانڈر اور یونٹ شامل ہیں۔

دوسری طرف برطانیہ نے پانچ ایرانی عہدیداروں دو اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں جس کے بعد برطانیہ میں بلیک لسٹ ایرانی افراد اور اداروں کی تعداد 50 ہو گئی۔ ان عہدیداروں اور اداروں کو بلیک لسٹ کرنےکے بعد ان کے اثاثے منجمد کردیے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

یورپ اور برطانیہ کی طرف سے ایران پر تازہ پابندیاں تہران اور مغربی ملکوں کے درمیان کئی اختلافی مسائل اور تنازعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ خاص طور پر ایران کی طرف سے یوکرین جنگ میں روس کی مبینہ مدد اور اسلحہ کی فراہمی پر مغربی ممالک ایران پر برہم ہیں۔

ایران پہلے ہی یورپی اور برطانوی اقدامات کا جواب دے چکا ہے جس میں دونوں اطراف کے افراد اور اداروں کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس میں انہیں ایران کا سفر کرنے سے روکنا اور اس کی سرزمین پر ان کے اثاثوں کو منجمد کرنا شامل ہے۔

پیر کے روزامریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کی کوآپریٹو فاؤنڈیشن اور اسلامی جمہوریہ میں اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں عائد کیں۔ امریکا اور مغربی ممالک تہران پر مظاہروں کو کچلنے کے رد عمل میں دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے واقعے کے بعد تہران پر سخت دباؤ ہے اور دوسری طرف ملک گیراحتجاج کو کچلنے کے لیے ایرانی سکیورٹی فورسز پرالزام ہے کہ وہ طاقت کا استعمال کررہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں