امریکہ کی اسرائیل سے یوکرین کو طیارہ شکن میزائل فراہمی کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ تل ابیب میں موجود پرانے ہاک طیارہ شکن میزائل فراہم کرے، تاکہ انہیں یوکرین منتقل کیا جا سکے۔

امریکی نیوز ویب گاہ ایکسیوس نے انکشاف کیا ہے 3 امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود پرانے امریکی ساختہ ہاک طیارہ شکن میزائل فراہم کرے، تاکہ انہیں یوکرین منتقل کیا جا سکے۔

سینئر اسرائیلی اور امریکی حکام نے بتایا کہ پینٹاگون نے دو ہفتے قبل اسرائیلی وزارت دفاع سے رابطہ کیا اور ذخیرہ شدہ ہاک سسٹمز کو یوکرین کے دارلحکومت کیئف منتقل کرنے کی درخواست کی۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ اسی طرح کی درخواستیں کئی دوسرے ممالک کو بھی کی گئی ہیں جن کے پاس یہ سسٹم موجود ہے، خواہ وہ میزائل فعال حالت میں ہوں یا اسٹوریج میں ہوں۔

ایکسیوس کے مطابق، ایک سینئر اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع میں پالیسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ درور شلوم نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو بتایا کہ "یوکرین کو ہتھیار نہ فراہم کرنے کی اسرائیلی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔"

ہاک میزائل کے بارے میں شلوم کا کہنا تھا کہ "اسرائیل کے ہاک سسٹم "پرانے" ہیں اور کام نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بہت عرصے سے بغیر دیکھ بھال کے اسٹوریج میں تھے۔

اسرائیلی اہلکار کے مطابق شالوم کا جواب سچ پر مبنی نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا اگرچہ لانچرز "مکمل طور پر ناکارہ ہو سکتے ہیں"، مگر اسرائیل کے پاس موجود سینکڑوں ہاک انٹرسیپٹر میزائلوں کی "تجدید اور استعمال ممکن ہے"۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے بھی ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ " یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے اسرائیلی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہر درخواست کا ہر معاملے کی نوعیت کے مطابق جائزہ لیا جاتا ہے۔"

اسرائیل نے امریکی درخواست کیوں مسترد کی؟

روس اور یوکرین جنگ کے دوران یوکرین نے بار ہا مغربی ممالک سے ہتھیاروں کی درخواست کی ہے ۔

اسرائیل نے ہتھیار فراہم کرنے کی امریکی اور یوکرین کی درخواستوں کو اس خدشے کے پیش نظر مسترد کر دیا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے روس کے ساتھ تناؤ پیدا ہو سکتا ہے اور شام میں اسرائیلی سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایکسیوس کے مطابق، روس کا شام میں بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے اور وہ اسرائیل کو وہاں ایرانی سرگرمیوں کے خلاف آزادانہ کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے امریکی کوششیں

اس ماہ کے آغاز میں، امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے واشنگٹن میں امریکہ اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پی اے سی) کی کانفرنس میں ایک تقریر کے دوران بھی اسرائیل سے ہاک میزائل کے حصول کے لیے امریکی درخواست کا اشارہ دیا تھا۔

اس تقریر میں، آسٹن نے ذکر کیا تھا کہ کس طرح ہاک سسٹم نے اسرائیل کو "1967 کی اور 1973 کی جنگ میں اپنا دفاع مضبوط کرنے میں مدد کی تھی۔"

آسٹن نے کہا، " ہاک میزائل اگرچہ اب جدید ترین ٹیکنالوجی نہیں رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی ایک مصیبت زدہ جمہوریت کو اپنا دفاع کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ یوکرین کو ہاک میزائل کی فراہمی کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

اسرائیل نے "مصری اور شامی فضائی حملوں سے دفاع کے لیے" پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی میں امریکہ سے "ہاک" سسٹم خریدا تھا۔

اس وقت، ریتھیون کا تیار کردہ یہ طیارہ شکن نظام جدید ٹیکنالوجی کا حامل تھا۔

لیکن حالیہ برسوں میں اسرایل نے امریکن پیٹریاٹ سسٹم، آئرن ڈوم سسٹمز، اور ایرو ڈیفنس سسٹم سمیت مختلف دوسرے نظاموں کا استعمال کیا ہے۔ئ

ایک دہائی قبل اسرائیلی فوج نے ہاک سسٹم کو ختم کر دیا تھا۔ ایک اعلیٰ سطحی اسرائیلی اہلکار کے مطابق اسرائیل میں اب بھی تقریباً 10 ہاک بیٹریاں اور سینکڑوں انٹرسیپٹر میزائل محفوظ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں