شام اور ترکیہ میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اموات ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب شام کے علاقے ادلب میں ریسکیو کارکنوں نےایک کم عمر بچی کوایک عمارت کے ملبے سے نکالنے کی کوشش کی مگر بچی جاں بر بہ ہوسکی اوردم توڑ گئی۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں ادلب میں تباہ شدہ عمارت کے کھنڈرات سے ایک بچی کو زندہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ جنوبی ادلب کے عزمارین کے مقام پر پیش آیا جہاں زندہ نکالی گئی بچی کو بچانے کی کوشش ناکام رہی۔ بچی کی موت پراس کا والد جوموقعے پرموجود تھا جو صدمے سے نڈھال تھا۔
زلزال القهر ... عندما يكون للثواني ثمن.
— الدفاع المدني السوري (@SyriaCivilDefe) February 12, 2023
لحظات من إنقاذ الطفلة أنوار على قيد الحياة، من بين أنقاض منزلها في عزمارين غربي #إدلب، في ثاني أيام الزلزال الثلاثاء 7 شباط، لكنها فقدت الحياة قبل وصولها إلى المشفى.#الخوذ_البيضاء #زلزال_سوريا #زلزال pic.twitter.com/QlFqMgDLkU
ننھی بچی باہر نکالے جانے کے بعد بے جان اور بے حرکت دکھائی دی۔ اسے فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور اس کی سانسیں بحال کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اسے ایمبولینس پر اسپتال لایا گیا مگر وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار گئی۔
سیریئن سول ڈیفنس اکاؤنٹ نے ویڈیو شائع کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 7 فروری کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے دوسرے دن چھوٹی بچی کو بچایا جا رہا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ شدید زلزلے کے تقریباً ایک ہفتے بعد ترکیہ اور شام میں اب تک تقریباً 34,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق یہ تعداد دوگنا ہو سکتی ہے۔
سانحے کے سات دن بعد ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امیدیں معدوم ہونے لگیں۔ شمالی شام میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش روک دی گئی ہے۔