چین یوکرین میں روسی فوج کے لیے 100 حملہ آور ڈرون تیار کرنے کا خواہاں

یہ ڈرون ایرانی ساختہ ’’ شاہد 136 ‘‘ سے ملتے جلتے ہیں: فوجی ماہرین، جرمن میگزین ’’ ڈیر سپیگل‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جرمن ہفتہ وار اخبار "ڈیر سپیگل" نے اپنے جمعہ کے شمارے میں اعلان کیا ہے کہ چین ممکنہ طور پر یوکرین میں استعمال کیے جانے کے لیے روسی فوج کے لیے حملہ آور ڈرون تیار کرنا شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اخبار نے کسی ذریعے کا ذکر کیے بغیر بتایا کہ اس سلسلہ میں روسی فوجی حکام اور چینی ڈرون بنانے والی کمپنی ژیان پینگھو انٹیلیجنٹ ایوی ایشن ٹیکنالوجی کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔

اخبار نے "Bingo" کے حوالے سے بتایا کہ وہ 100 عدد ’’ زیڈ ٹی 180‘‘ ڈرون تیار کرنے، ان کی جانچ کرنے اور انہیں اگلے اپریل تک روسی وزارت دفاع کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ اخبار کو انٹرویو دینے والے فوجی ماہرین کے مطابق یہ ڈرون ایرانی ساختہ ’’شاہد 136‘‘ سے ملتے جلتے ہیں اور یہ 35 سے 50 کلو گرام وزنی دھماکہ خیز چارج لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ڈیر سپیگل (Der Spiegel) کے مطابق دوسرے مرحلے میں چینی مینوفیکچرر نے مقامی طور پر ان ڈرونز کی تیاری شروع کرنے کے لیے پرزوں کو منتقل کرنے اور روس کو معلومات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اخبار نے مزید بتایا کہ اس سے ماسکو خود ماہانہ 100 ڈرون تیار کر سکتا ہے۔

جرمن اخبار کے مطابق گزشتہ برس فوج کے زیر کنٹرول ایک اور چینی کمپنی نے روس کو اپنے لڑاکا طیاروں خاص طور پر ’’ سخوئی 27‘‘ کے سپیئر پارٹس فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ سپیئر پارٹس شہری استعمال کے لیے سازوسامان برآمد کرنے کی آڑ میں بھیجے جانا تھے۔

چینی وزارت خارجہ نے اخبار کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے بارے میں ڈیر سپیگل کے سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا تاہم اس نے کہا کہ یوکرین کے میدان جنگ میں ہتھیاروں کا اصل ذریعہ امریکہ ہے۔ خیال رہے امریکہ نے رواں ہفتے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ روس کو یوکرین میں حملے کی حمایت کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کی بیجنگ نے تردید کردی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں