متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زایدآل نہیان اوراطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے ہفتہ کے روزابوظبی میں ملاقات کی ہے اوردونوں ملکوں کے درمیان موجودہ تزویراتی، اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق طرفین نے اقتصادی، سرمایہ کاری اور تجارتی شعبوں کے ساتھ ساتھ توانائی کے تحفظ، قابل تجدید توانائی، صاف ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے طریقوں پربات چیت کی ہے۔
انھوں نے موسمیاتی تبدیلی،تحفظِ خوراک، صنعت اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کے پہلوؤں پربھی گفتگو کی ہے۔وام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’دونوں رہ نماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں ترقی کی رفتارکوتیز کرنے کے لیے مشترکہ کام کرنے کی خواہش کا اظہارکیا تاکہ گذشتہ برسوں کے دوران میں حاصل کردہ کامیابیوں کو آگے بڑھایا جاسکے‘‘۔
شیخ محمد نے’’بات چیت اورسفارت کاری کے ذریعے امن اور تعاون کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت کا اعادہ کیا اورعلاقائی اور عالمی سطح پر استحکام اور ترقی کے حصول کے لیے اٹلی کے ساتھ مل کر کام کرنے پرآمادگی کا اظہار کیا۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ اٹلی کوپ 28 موسمیاتی کانفرنس میں ’’فعال اور بااثر‘‘ انداز میں شرکت کرے گا۔انھوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور 2050 تک آب وہوا کی غیر جانبداری کے حصول میں اٹلی کی دلچسپی کو اجاگرکیا-یہی ہدف متحدہ عرب امارات نے بھی مقررکررکھا ہے۔
میلونی جمعہ کے روز دو روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچی تھیں۔ان کا استقبال یواے ای کے وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان الجابر نے کیا جو اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 28 کے نامزد صدر اورابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے گروپ سی ای او بھی ہیں۔
اطالوی وزیراعظم نے اس سے پہلے بھارت کا سرکاری دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے جمعرات کو نئی دہلی میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر بھارتی قیادت سے ملاقات کی تھی۔اس میں بھارت اور اٹلی کے درمیان ایک نئی تزویراتی شراکت داری کےعزم کا اظہارکیا گیا تھا۔اس شراکت داری میں وسیع تردفاعی تعاون اور مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز شامل ہوگا۔