سعودی عرب کی روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی پیش کش
سعودی عرب روس کے ساتھ ہرسطح پر تعلقات کو مضبوط بنانااورفروغ دیناچاہتا ہے:شہزادہ فیصل
سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔
شہزادہ فیصل نے ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لافروف کے ساتھ جمعرات کو نیوزکانفرنس میں پیش کش کی کہ سعودی عرب یوکرین کے بحران کے حل کے لیے ثالثی کوتیار ہے۔
اس سے قبل سعودی وزیرخارجہ اورلافروف نے یوکرین کی جنگ، دوطرفہ تعلقات اور تیل کی منڈیوں کے استحکام سمیت بین الاقوامی سطح پرہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں وزراء خارجہ نےروس اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی اہمیت کا اظہارکیا۔شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب روس کے ساتھ ہر سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانااور فروغ دینا چاہتا ہے۔
لافروف نے نیوزکانفرنس میں کہا:’’ہم سعودی عرب کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانےکی خواہش کی بھی تصدیق کرتے ہیں‘‘۔
اوپیک پلس کے پلیٹ فارم سے باہمی تعاون کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ہم نے وعدوں پر مسلسل عمل درآمد کی توثیق کی ہے جبکہ شہزادہ فیصل نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں استحکام کو برقراررکھنے کے لیے سعودی عرب کی خواہش کا اعادہ کیا۔
یمن کی صورت حال کے بارے میں پوچھے جانے پر شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب تنازع کے خاتمے کے لیے یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا:’’ہم یمن میں پہلے مستقل جنگ بندی تک پہنچنا چاہتے ہیں اورپھرایک سیاسی عمل شروع کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
روسی وزیرخارجہ نے یوکرین اور یمن کے تنازعات کے حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا اور یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی کی جانب سے ماسکو کے ساتھ مذاکرات سے انکارکو مسلسل جارحیت کی وجہ قراردیا۔انھوں نے کہا:’’ہم نہیں سمجھتے کہ یوکرین روس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کرنے کی خواہش رکھتا ہے‘‘۔