سویڈن نے ایران نژادسویڈش شہری کی سزائے موت کی توثیق کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سویڈن نے ایران کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے ایرانی نژاد سویڈش شہری کو سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کی مذمت کردی ہے۔ اس نے عدالت کے فیصلے کو'غیر انسانی' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر مزید وضاحت چاہتا ہے۔

سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بلسٹروم نے اتوار کو اے ایف پی کو ایک ای میل میں بتایا کہ ’’تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ ایک غیر انسانی اور ناقابل تلافی سزا ہے اور سویڈن، باقی یورپی یونین کے ساتھ مل کر، ہر صورت میں اس سزا کے استعمال کی مذمت کرتا ہے‘‘۔

ان کا یہ ردعمل ایرانی عدلیہ کی میزان آن لائن ویب سائٹ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کی سپریم کورٹ نے حبیب فرج اللہ کعب کے خلاف 6 دسمبر کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

ایران کی ایک فوجداری عدالت نے سویڈن کی دُہری شہریت کے حامل شخص کو 2018 میں فوجی پریڈ پرحملے سمیت تشدد کے واقعات میں ایک عرب علاحدگی پسند گروپ کی قیادت کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔ فوجی پریڈ پر حملے میں پچیس افراد ہلاک اور کم سے کم ڈھائی سو زخمی ہو گئے تھے۔

ایران نے 2020 میں کہا تھا کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے حبیب فرج‌الله‌ کعب کو بیرون ملک گرفتار کیا تھا، یہ بتائے بغیر کہ اسے کہاں اور کیسے گرفتار کیا گیا تھا۔

ایران کی ایک فوجداری عدالت نے فرج‌الله‌ کعب کو ان کے وکیل کی موجودگی میں کئی سماعتوں کے بعد سزائے موت سنائی تھی۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق فرج‌الله‌ کعب پر علاحدگی پسند عرب جدوجہد تحریک برائے آزادیِ اہوازکی قیادت کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ یہ جنوب مغربی ایران کے تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ خوزستان میں ایک علاحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق کعب پر’زمین پر فساد پھیلانے (بدعنوان ہونے) کا بھی الزام‘ عاید کیا گیا ہے۔ ایران میں نافذالعمل اسلامی قانون کی سخت شکل کے تحت اس جرم کی سزا موت ہے۔

ایران کے اپنی نسلی اقلیتوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات رہے ہیں۔ ان میں عرب، کرد، آذری اور بلوچ شامل ہیں اور ایرانی حکام ان پر تہران کے بجائے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا الزام عاید کرتے ہیں۔

عرب اور دیگر اقلیتی گروہ طویل عرصے سے یہ کَہ رہے ہیں کہ انھیں ایران میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے، لیکن ایرانی حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں