ایران میں طالبہ کو زہر دیے جانے کے واقعہ کی گونج میں آج پیر کو ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ کرد انسانی حقوق کی تنظیم "ھینگاو" نے اپنے ٹوئٹر پر اعلان کیا ہے کہ ملک میں شمال مغرب میں موجود شہر "بانہ" میں گرلز سیکنڈری سکول پر زہریلی گیسوں سے حملہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا زہریلی گیسوں سے سانس لینے میں دشوار ی ہو رہی ہے۔ حالت خراب ہونے پر کچھ طالبات کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے سکول کے اندر سے ایسے مناظر شیئر کیے ہیں جن میں کچھ خاندانوں کو جمع ہوتے دکھایا گیا۔ ایک ایمبولینس زخمیوں کو لے جانے کے لیے روکی ہوئی بھی دکھائی دی۔
فعالان رسانهای کُرد، دوشنبه 22 اسفند، از مسمومیت دانشآموزان مدرسه راهنمایی «وحدت» واقع در دهستان کانیسور در شهرستان بانه خبر دادند.
— العربیه فارسی (@AlArabiya_Fa) March 13, 2023
به گفته سازمان حقوق بشری «هنگاو» شماری از دانشآموزان مسموم شده این مدرسه برای درمان به بیمارستان منتقل شدند. pic.twitter.com/GcpzlYcbu4
ملک کے کئی علاقوں میں زہر دینے کے مشتبہ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ خاص طور پر سکول کی طالبات کو نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار حکام کو ٹھہرایا ہے۔
زہر کے حملوں کا آغاز "قُم" سے اس وقت ہوا جب وہاں زہریلی گیس کے درمیان سانس لینے میں شدید رکاوٹ اور آنتوں میں درد کے باعث طالبات بے ہوش ہوگئی تھیں۔ اسی طرح اب سینکڑوں سکولوں میں اسی طرح کے کیسز سامنے آگئے۔ چند روز قبل حکام نے زہر دینے کے معاملے میں متعدد گورنریٹس میں 100 سے زائد مشتبہ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔