بحیرہ اسود میں مارگرائے خطرناک امریکی ڈرون ’MQ-9‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دو روز قبل بحیرہ اسود کے اوپر ایک روسی سخوئی-27 لڑاکا طیارہ امریکی MQ-9 ریپر ڈرون سے ٹکرانے کے بعد ایک سنگین حادثہ پیش آیا تھا۔ امریکا نے کہا ہے کہ امریکی افواج کو بین الاقوامی پانیوں میں ڈرون کو مجبوراً چھوڑنا پڑا۔

خطے میں فضائیہ کی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار جنرل جیمز پی ہیکر نے ایک بیان میں کہا کہ طیارہ "بین الاقوامی فضائی حدود میں معمول کی پرواز کر رہا تھا جب اسے روسی ایس یو-27 نے نشانہ بنایا۔ انہوں نے روسی کارروائی کو " امن مخالف اور غیرپیشہ وارانہ اقدام قرار دیا۔

روسی طیارے اور امریکی بغیر پائلٹ ڈرون کے درمیان تصادم کے واقعے نے ایک بار پھر اس قسم کے ڈرون اور اس کی صلاحیت پر بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ڈرون کیا ہے اور اس کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟۔ اس کے فوائد ہیں بھی یا نہیں۔ نیز اس میں کیا خامی ہوسکتی ہے؟۔

اعلی درجے کی تکنیکی خصوصیات

امریکی رپورٹس کے مطابق "MQ-9" ریپر ڈرون جدید ترین امریکی ڈرونز میں سے ایک ہے۔ یہ اعلیٰ تکنیکی خصوصیات کا حامل ہے اور میدان جنگ میں کئی مشن انجام دے سکتا ہے۔

یہ طیارہ MQ-1 پریڈیٹر کا اپ ڈیٹ ورژن ہے جو گذشتہ صدی کے نوے کی دہائی میں متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ مانیٹرنگ، سرویلنس، جاسوسی، تلاش اور بچاؤ سے متعلق مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ حملہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ زمین پر اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور یہ فیلڈ فائٹنگ میں میزائل لانچر کا استعمال کرتا ہے۔

گذشتہ سال کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ نے 2007 میں پروگرام شروع ہونے کے بعد سے 360 سے زیادہ ریپر ہوائی جہاز بنانے کے لیے جنرل آٹومیکس سے معاہدہ کیا ہے۔ اس نوعیت کے ایک ڈرون کی تیاری پر تقریباً 30 ملین ڈالرلاگت آتی ہے۔

عراق اور افغانستان پر مشن

رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان طیاروں نے "عراق، افغانستان، شام اور دیگر ممالک میں مشن انجام دیے۔ 17 ریاستوں کے 20 اڈوں میں سے دو اڈوں سے دو ٹیمیں ٹیمیں ان ڈرونز کوآپریٹ کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک مشن کی قیادت کرتی اور ڈرون کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ دوسری سینسر چلاتی اور ہتھیار فراہم کرتی ہے۔

ہوائی جہاز آٹھ لیزر گائیڈڈ میزائل، 16 ہیل فائر میزائل اور 1,300 پاؤنڈ (590 لیٹر) ایندھن لے جا سکتا ہے۔ یہ ہوا میں 1,150 میل (1,850 کلومیٹر) تک سفر کرنے اور 50,000 فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کچھ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس مارچ کو بغداد میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اسے افغانستان کے دارالحکومت میں القاعدہ کے رہ نما ایمن الظواہری کے قتل کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

طویل سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ڈرون

’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بیان کیا ہےکہ "ریپر ڈرون 275 میل (442 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار تک پروازکر سکتا ہے۔ اسے لمبی پروازوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کچھ ماڈلز 34 گھنٹے تک پرواز کرنے کے قابل ہیں۔

اخباری رپورٹ کے مطابق "ریپر بم گرا سکتا ہے اور میزائل چلا سکتا ہے، لیکن اس کی سست رفتار اور دفاعی ہتھیاروں کی کمی اسے مار گرانا نسبتاً آسان بنا دیتی ہے"۔

امریکی "این بی سی نیوز" نیٹ ورک نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ ڈرون کے ملبے کے حصول کے امکانات کا مطالعہ کر رہا ہے لیکن روسی فوج کسی دوسرے امریکی جہاز سے پہلے ڈرون تک پہنچ سکتی ہے۔

دسمبر 2021 میں امریکی میرین کور کے ریٹائرڈ جنرل کینتھ میکنزی نے "Fox News" سے بات کرتے ہوئے اس ڈرون کے بارے میں کہا تھا کہ یہ "بڑے مخالفین کا مقابلہ نہیں کر سکتا"۔

ان کا کہنا تھا کہ پینٹاگان نے اس کے متبادل کے لیے تندہی سے کام شروع کر دیا ہے۔

آسان فضائی ہدف

فضائی دفاع کے شعبے کے ماہرین نے "روسی ویپنز" اخبار کو بتایا کہ یوکرین کے اوپر فضا میں ڈرون ایک بہترین فضائی ہدف بن جائے گا۔ اسے کسی بھی روسی لڑاکا کے ذریعے تلاش کر کے تباہ کر دیا جائے گا۔ یہ فوجی فضائی دفاعی نظام جیسے Tor یا Buk کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنے گا خاص طور پر S-300 کے لیے۔ اس کے علاوہ ریپر ڈرون سائبرحملے کا نشانہ بن سکتا ہے۔

امریکی فوج میں MQ-9 کو چلانے کی تربیت میں پورا سال لگتا ہے، لیکن یہ مدت بھی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی کیونکہ میڈیا میں یہ معلومات گردش کر رہی ہیں کہ صرف 2011 سے پینٹاگان نے ان میں سے 12 طیارے کھو دیے ہیں۔ جہاں صرف 4 کو گرا دیا گیا اور 8 ان کو کنٹرول کرنے والوں کی غلطیوں کی وجہ سے ضائع ہو گئے۔

روسی میڈیا کے مطابق ریپر غیر تربیت یافتہ یوکرینی فوج کے ہاتھوں میں ایک مہنگا اور تقریباً بیکار کھلونا بن جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں