جو بائیڈن کا رمضان کے آغاز پر چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ اظہار 'یکجہتی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو رمضان المبارک کے آغاز پر چین کی ایغور اقلیت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام ایک پیغام میں "یکجہتی" کا اظہار کیا۔

بائیڈن نے ایک بیان میں کہا، "امریکا اور اتحادی، مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں جو مسلسل ظلم کا سامنا کر رہے ہیں، بشمول چین میں ایغور، برما میں روہنگیا، اور دنیا بھر میں ظلم و ستم کا سامنا کرنے والی دیگر مسلم کمیونٹیز۔"

بائیڈن نے ترکی اور شام کے زلزلہ متاثرین اور پاکستان میں سیلاب زدگان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "اس مقدس وقت کے دوران، امریکہ مشکلات اور تباہی کا شکار مسلم کمیونٹیز کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔"

"آج خاص طور پر، ہم پرامن طریقے سے اور کھلے عام اپنے عقائد پر عمل کرنے، عبادت کرنے اور تبلیغ کرنے کے عالمی انسانی حق کو یاد کرتے ہیں۔"

بائیڈن کی جانب سے ایغور مسئلے کو اجاگر کرنا ، جن کے بارے میں امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ چینی کمیونسٹ حکام ان کی نسل کشی کرہی ہے، واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سخت تناؤ کے وقت سامنے آیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ایغور مسلمانوں کو جبری مشقت کے کیمپوں میں بڑے پیمانے پر قید کیا جاتا ہے اور ان کی مذہبی ثقافت کے اظہار پر پابندی عائد ہے۔

بیجنگ اس کی تردید کرتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ نسلی اقلیت کو دبایا نہیں جا رہا ہے اور یہ کہ اس کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ میں حفاظتی اقدامات دہشت گردی کے خطرے کا جواب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں