سعودی عرب، امارات نے ڈنمارک میں ترک سفارت خانے کے باہر قرآن جلانے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اور کئی دیگر مسلم ممالک نے کوپن ہیگن میں ترک سفارت خانے کے سامنے ڈنمارک کے ایک انتہا پسند گروپ کی جانب سے قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ’’کوپن ہیگن میں ترک سفارت خانے کے سامنے ایک انتہا پسند گروپ کی جانب سے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب مکالمے، رواداری اور احترام کی اقدار کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور نفرت، انتہا پسندی اور تقسیم کرنے والی ہر چیز کو مسترد کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی ایک بیان میں اس فعل شنیع کی مذمت کی ہے۔امارات نیوزایجنسی (وام) نے وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون (ایم او ایف اے آئی سی) کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ یواے ای انسانی اوراخلاقی اقدار اور اصولوں کے منافی عالمی امن وسلامتی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے تمام طریقوں کو مستقل طور پر مسترد کرتاہے۔

وزارت نے مذہبی شعائر اور علامتوں کا احترام کرنے اور اشتعال انگیزی اور تقسیم سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا کو رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کی اقدار کو پھیلانے اور نفرت اور انتہا پسندی کو مسترد کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔

بعض دوسرے اسلامی ممالک نے بھی اس مذموم فعل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے،بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے بارے میں خبردارکیا ہے اور مغربی ممالک سے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔ڈنمارک کے انتہاپسند گروپ کی مذموم حرکت کی مذمت کرنے والے ممالک میں بحرین، ترکیہ، مراکش، قطر اور اردن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ڈنمارک اوراس کے پڑوسی سویڈن میں حالیہ مہینوں میں اظہاررائے کی آزادی کے نام پرمتعدد اسلام مخالف کارروائیاں ہو چکی ہیں۔اس سے پہلے بھی بعض انتہاپسندوں نے اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید کے نسخے جلائے تھے۔یہ اسی سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں