سعودی عرب،ایران معاہدہ کے لبنان اورخطے پر 'پُرامن' اثرات ہوسکتے ہیں:امریکی ایلچی

بائیڈن انتظامیہ کی توجہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا پرمرکوزہے،لبنان اورتُونس میں عدم استحکام پرمشوش ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ کی ایک سینیرعہدہ دار نے واضح کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی توجہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے خطے پر مرکوز ہے۔سعودی عرب اورایران کے درمیان تعلقات کو معمول پرلانے کے معاہدے کے خطے پر’اطمینان بخش‘‘ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

مشرقِ قریب کے امور کی معاون وزیرخارجہ باربرا لیف نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لبنان اورتُونس جیسے خطے کے بعض ممالک میں عدم استحکام پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔

لیف نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا:’’بائیڈن انتظامیہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقامیں ہمارے پائیدارمفادات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے‘‘۔باربرالیف حال ہی میں اس خطے کے دورے سے امریکا لوٹی ہیں۔انھوں نے اردن، مصر، لیبیا، تُونس اور لبنان میں مختصرقیام کیا تھا اوروہاں حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں طے پانے والے حالیہ معاہدے کے بارے میں پوچھے جانے پرلیف نے کہا کہ علاقائی تناؤکو کم کرنے کی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔

البتہ انھوں نے خبردارکیا کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس معاہدے پرکیاعمل درآمد کیا جاتا ہے اور یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا ایران یمن اور سعودی عرب پرحملے جاری رکھنے والی ملیشیاؤں کی مہلک امداد اور تربیت روکنے کے اپنے وعدوں پر پورا اُترتا ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا:’’مجھے نہیں لگتا کہ سعودی عرب خطے میں پراکسی جنگ کو فروغ دے رہا ہے مگر میں ایران کو ایسا کرتے ہوئے دیکھتی ہوں اور اگر یہ (نیا معاہدہ) ایران کی جانب سے اس طرح کی سرگرمیوں کو وسیع پیمانے پر روکنے کا باعث بنتا ہے تومیرے خیال میں اس سے لبنان کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک پربھی پرسکون اور فائدہ مند اثرات مرتب ہوں گے‘‘۔

لیف نے بیروت کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر خطرے کی گھنٹی بجادی اور لبنانی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صورت حال میں بہتری کے لیے فوری طورپرضروری فیصلے کرنے سے قاصر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’بحران کے وقت لبنانی عوام کی مدد امریکاکی ترجیح ہے۔ہم لبنانی رہ نماؤں پر زوردیتے ہیں کہ وہ فوری طور پراس احساس کو اپنائیں جس کی ان کے پاس واضح طورپرکمی ہے اور یہ سنجیدگی کا احساس ہے۔وہ اہم فیصلے کریں اورایسے غیرمعمولی اقدامات کریں جو ملک کو موجودہ غیرمعمولی بحران سے نکال باہر کرنے کی راہ پرگامزن کرسکیں‘‘۔

باربرالیف کا کہنا تھا کہ اگر لبنان معاشی بحالی کا آغاز کرنا چاہتا ہے تو اس کے پاس بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مجوزہ معاہدے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔لبنانی حکام کا قریباً ایک سال قبل آئی ایم ایف کے ساتھ عملہ کی سطح کے معاہدے پراتفاق ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد سے لبنانی حکام اس کو حتمی شکل دینے کے لیے ضروری اصلاحات پرعمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ان میں لبنان کے غیرملکی قرضوں اور بینکاری کے شعبے کی تنظیم نو اور سرکاری بجلی کمپنی میں اصلاحات شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں