چین،ایران اور روس آیندہ کئی سال تک مسئلہ بنے رہیں گے:امریکی جنرل کاانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے اعلیٰ فوجی عہدہ دار نے بدھ کے روز قانون سازوں کو چین، ایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے بارے میں خبردارکیا ہے اور کہاہے کہ ’’یہ تینوں ممالک آیندہ کئی سال تک واشنگٹن کے لیے ایک مسئلہ بنے رہیں گے‘‘۔

امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے کہا کہ روس اور چین ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور یہ صورت حال پریشان کن ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق جنرل مارک میلی وزیردفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے آرمڈ سروسز میں بیان دے رہے تھے۔

انھوں نےکہاکہ’’میں اسے اس لفظ کے حقیقی معنوں میں مکمل اتحاد نہیں کہوں گا لیکن ہم انھیں ایک دوسرے کے قریب آتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور یہ پریشان کن ہے۔اور پھر... ایران تیسرے نمبر پر ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں یہ تینوں ممالک مل کرآنے والے کئی سال تک مسائل کا سبب بنے رہیں گے،خاص طور پر روس اور چین اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے مسئلہ بنیں گے‘‘۔

جنرل میلی نے کہا کہ چین اور روس امریکی مفادات اور طرزِزندگی کے لیے اہم خطرات ہیں اور یہ پہلا موقع ہے جب امریکاکو بیک وقت دو بڑی جوہری طاقتوں کا سامنا ہے۔

منگل کو کانگریس کمیٹی کی ایک الگ سماعت کے دوران میں انھوں نے ایران کی’’دوہفتے سے بھی کم وقت میں‘‘ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکارمواد کی تیاری اور چند ماہ کے اندر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے بارے میں تشویش کا اظہارکیا تھا۔

جنرل میلی نے کہا:’’امریکی فوج نے ہماری قومی قیادت کے لیے متعدد آپشنزوضع کیے ہیں تاکہ اگر ایران جوہری ہتھیارتیارکرنے کا فیصلہ کرتا ہے توان پرغور کیا جا سکے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں