امریکاکافن لینڈکی نیٹومیں شمولیت کاخیرمقدم،ترکیہ سےسویڈن کی رُکنیت کی منظوری کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا نے منگل کے روز فن لینڈ کی معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹومیں شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے اور اس کو 31 واں اتحادی قرار دیتے ہوئے باضابطہ طور پرخوش آمدید کہا ہے۔اس نے ترکیہ اور ہنگری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سویڈن کی تنظیم میں شمولیت کی بھی فوری منظوری دیں۔

فن لینڈ اورسویڈن نے یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے بعد گذشتہ سال مئی میں نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔ان کی رکنیت کو پہلے ترکیہ اور پھر ہنگری نے مختلف وجوہ کی بنا پر روک دیا تھا۔تاہم امریکااور یورپ کی لابنگ کی کوششوں نے ترکیہ کے ویٹو کو ہٹانے میں مدد کی۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے نارڈک ممالک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'مضبوط جمہوریتیں' ہیں جن کے پاس انتہائی قابل فوجیں ہیں۔وہ 'دنیا کے لیے ہماری اقدار اور وژن کا اشتراک کرتی ہیں‘‘۔

بائیڈن نے مزیدکہا کہ’’جب (ولادی میر) پوتین نے یوکرین کےعوام کے خلاف جارحانہ وحشیانہ جنگ شروع کی توانھوں نے سوچا ہوگاکہ وہ یورپ اور نیٹو کو تقسیم کر سکتے ہیں،لیکن وہ اس سوچ میں غلط تھے‘‘۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے کہا کہ یہ ایک تاریخی دن ہےانھوں نےروسی صدر ولادی میر پوتین نکتہ چینی کی ہے۔انھوں نے بیلجیئم میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینزاسٹولٹن برگ کے ساتھ ملاقات سے قبل کہا:’’میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے ہم مسٹرپوتین کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ انھوں نے ایک بار پھر ایک ایسی پیش رفت کی ہے جسے روکنے کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے ہیں‘‘۔

امریکی صدر نے کہا کہ یورپ اورنیٹو پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں اوربحراوقیانوس کی سلامتی کو برقرار رکھنے اورنیٹوکے ہرانچ کا دفاع کرنے کاعہدکرتے ہیں۔فن لینڈ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ریکارڈ وقت میں نیٹو کا رکن بن گیا۔

صدربائیڈن نے کہا،جہاں تک سویڈن کا تعلق ہے،وہ جلداز جلد نیٹو میں اس کا خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔انھوں نے ترکیہ اور ہنگری کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بلاتاخیراس کی رکنیت کے لیے اپنی توثیق کاعمل مکمل کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں