ایران میں شام میں اسرائیلی حملے میں ہلاک پاسداران انقلاب کےافسروں کی نمازجنازہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں گذشتہ ہفتے اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب کے دواہلکاروں کی نمازجنازہ تہران میں اداکی گئی ہے اور ان کے جنازے میں ہزاروں ایرانیوں نے شرکت کی ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ جمعہ کومقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے دمشق کے قریب واقع مقامات پر متعدد میزائل داغے تھے۔یہ حالیہ دنوں میں اسرائیل کے شام میں ایرانی اہلکاروں یا ان کے ٹھکانوں پر حملوں کا تسلسل ہیں۔اس نے منگل کو بھی شام میں میزائل داغے ہیں۔

ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق سپاہِ پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف نے کہا کہ صہیونی مزاحمتی محاذ کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن مزاحمت اس سے مزید مضبوط اورمتحرک ہوگی۔

انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم دونوں شہداء میلاد حیدری اور مغداد مہغانی کے خون کا بدلہ لیں گے۔ہزاروں افراد ان کے سوگ میں تہران میں جمع ہوئے تھے اورانھوں نے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔

حیدری کی والدہ نے جنازے میں شریک بڑے اجتماع سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقتولین کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

شام میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں اسرائیل نے سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں اور لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ شامی فوج کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایاہے۔

شامی صدر بشارالاسد کے اہم اتحادی ایران کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں اس کے صرف فوجی مشیر تعینات ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اسرائیل پرمشرقِ اوسط میں ’جنگ اور عدم تحفظ‘ پیدا کرنے اورخطے میں انتشار پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے اسرائیل میں حالیہ سیاسی افراتفری اوردائیں بازو کی حکومت کی مجوزہ عدالتی اصلاحات کے خلاف بڑے پیمانے پرہونے والے مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کے پاس ’’اندرونی تباہی سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں