یواے ای کاخطرناک ماربرگ وائرس سے متعلق پھر انتباہ،متاثرہ ممالک کے سفرسے گریزکا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے ماربرگ وائرس کے خلاف صحت کی دوسری وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں اوررہائشیوں پرزوردیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیراختیارکریں اوران ممالک کا سفرکرنے سے گریز کریں جہاں یہ وَبا پھیلی ہے۔

امارات نیوزایجنسی (وام) کی رپورٹ کے مطابق "وزارت صحت اورروک تھام (ایم او ایچ اے پی) نے عوام پرزوردیا ہے کہ وہ ماربرگ نکسیربخارکا سبب بننے والے وائرس سے آگاہ رہیں اور دوافریقی ممالک تنزانیہ اور ایکواٹوریل گنی کا غیرضروری سفرکرنے سے گریزکریں۔ان دونوں ممالک میں ماربرگ وائرس پھیلاہے۔

وزارت نے اس بات پر زوردیا ہے کہ وائرس کواس کے موجودہ جغرافیائی دائرہ کارمیں روکنے کے لیے بین الاقوامی صحت کے معیارکے مطابق تمام ضروری احتیاطی تدابیراختیارکی جارہی ہیں اوراس بیماری کی عالمی شدت کا تعیّن کرنے کے لیے ان ممالک میں صورت حال پرگہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

امارات کی کی وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون نے سوموار کو ایک بیان میں عوام کو ایکواٹوریل
گنی اور تنزانیہ کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

سعودی عرب اورسلطنت عُمان نے بھی اسی طرح کا انتباہ جاری کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق اس وَبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد حکام کی رپورٹ سے دُگناہے۔اس نےدونوں افریقی ممالک میں رہنے والے شہریوں پربھی زوردیا گیا ہے کہ وہ وائرس سے خود کوبچانے کے لیے احتیاطی تدابیراختیار کریں اورمتعلقہ صحت اقدامات پرعمل کریں۔

احتیاطی تدابیر

اماراتی وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر سفر ناگزیرہے تو لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہییں جیسے مریضوں کے ساتھ قریبی رابطے سے بچا جائے، آلودہ سطحوں کو نہ چھوا جائےاور غاروں اور بارودی سرنگوں میں جانے سے گریزکیا جائے۔

وزارت کے مطابق اماراتی شہری اور رہائشی جو متاثرہ علاقوں سے ملک واپس آئے ہیں،وہ خود کو الگ تھلگ رکھیں اورقریبی اسپتالوں کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ یامراکزِصحت میں طبی امداد حاصل کریں۔

متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والے افراد کولازمی طور پرطبی عملہ کو مطلع کرنا ہوگا کہ وہ کسی ایسے علاقے میں گئے ہیں جہاں ماربرگ وائرس کی بیماری پھیل رہی ہےاورآیا وہ متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں ، یا 21 دن تک علامات ظاہر کرتے ہیں۔

وزارت صحت نے عوام پریہ بھی زوردیا ہے کہ وہ ماربرگ وائرس کے حوالے سےغیرسرکاری معلومات نہ پھیلائیں اور صرف سرکاری پلیٹ فارمزکی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیرپرعمل کریں۔

وزارت صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یواے ای کا وبائی امراض کی نگرانی کا نظام بہت مؤثر ہے اور صحت کے دیگر حکام کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی میں ہے۔

ماربرگ وائرس ایک جان لیوا بیماری ہے جو شدید بخار کا سبب بنتی ہے۔اس کے ساتھ اعضاء کی ناکامی ، یرقان اورصحت کی دیگرسنگین پیچیدگیاں بھی شامل ہیں۔یہ جانوروں سے انسانوں میں بند ماحول میں منتقل ہوتا ہے،جیسے بارودی سرنگوں یاغاروں میں جہاں چمگادڑیں رہتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں