روس اور یوکرین

چین زیلنسکی سے رابطے پر آمادہ، روس نے بیجنگ کی ثالثی مسترد کر دی

چینی صدر نے میکرون سے ملاقات کے دوران یوکرین کے صدر سے رابطہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور کریملن نے یوکرین میں جنگ روکنے کے لیے چینی ثالثی کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کریملن نے یوکرین میں لڑائی روکنے کے لیے چینی ثالثی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کے پاس اپنی جنگ جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے جمعرات کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ "یقیناً، جب ثالثی کی خدمات کی بات آتی ہے تو چین کے پاس بہت بڑی اور مؤثر صلاحیت موجود ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "لیکن یوکرین کے ساتھ صورت حال پیچیدہ ہے اور سیاسی تصفیے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس وقت ہمارے پاس خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔"

پیسکوف ممکنہ چینی ثالثی کے حوالے سے صدر میکرون کے بیان کے بعد سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بیجنگ میں کہا ہے کہ وہ "روس کو اپنے حواس میں واپس لانے کے لیے" اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ پر اعتماد کر رہے ہیں، جو صدر ولادیمیر پوتن کے قریبی ہیں۔"

ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے آج رائٹرز کو بتایا کہ چین یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر فرانس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ شی جن پنگ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ مناسب وقت پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے رابطہ کرنے کے لیے تیار ہیں ذرائع نے مزید کہا کہ میکرون نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ روس کو ایسا کچھ نہ دے جو وہ یوکرین جنگ میں استعمال کر سکتا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ بیجنگ میں آج میکرون سے ہونے والی ملاقات میں
چینی صدر شی جن پنگ بیجنگ میں آج میکرون سے ہونے والی ملاقات میں

مارچ میں ماسکو میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران، روس اور چین نے امریکی بالادستی کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے پرعزم اسٹریٹجک اتحاد پر اتفاق کیا ہے۔

چین نے مبینہ طور پر یوکرین کے لیے ایک امن منصوبہ تیار کیا ہے، لیکن یہ منصوبہ ابھی تک بہت مبہم ہے، اور بیجنگ دوسرے ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور روس کے سفارتی اور سلامتی کے مفادات کا دفاع کرنے جیسے اصولوں پر زور دیتا ہے۔

اگرچہ چین باضابطہ طور پر اپنی غیر جانبداری کا دعویٰ کرتا ہے، شی جن پنگ نے کبھی بھی روسی حملے کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بات کی۔

یوکرین نے متعدد بار اس بات کی اعادہ کیا کہ امن اس کے تمام علاقوں سے روسی افواج کے انخلاء سے مربوط ہے تاہم ماسکو کا مطالبہ ہے کہ یوکرین ان پانچ خطوں پر کنٹرول چھوڑ دے جنہیں روس خود میں ضم کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں