’’العربیہ‘‘ اور ’’الحدث‘‘ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مصری سیکورٹی حکام نے غزہ کی پٹی پر بمباری کے فیصلے کے بعد اسرائیل سے رابطہ کیا اور بتایا ہے کہ موجودہ اسرائیلی چھاپوں کے نتیجے میں مصری وفود کے غزہ اور تل ابیب کے دورے ملتوی ہوسکتے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مصر نے امریکہ، اسرائیل اور فلسطین کے دھڑوں کے ساتھ امن کے لیے وسیع رابطے کیے ہیں۔ مصر نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل شہریوں اور رہائشی شہروں کو نشانہ نہ بنائے۔ العربیہ اور الحدیث کے ذرائع کے مطابق اسرائیل نے ثالثوں کو آگاہ کیا کہ فوجی کشیدگی کا انحصار دھڑوں کے ردعمل اور راکٹ فائر کیے جانے کی حد تک ہے۔
الخبير في الشؤون الإسرائيلية عصمت منصور يكشف مغزى الغارات الإسرائيلية المحدودة واكتفاء الفصائل الفلسطينية بقصف مستوطنات غلاف #غزة#العربية pic.twitter.com/ZXjuPRkbiC
— العربية (@AlArabiya) April 7, 2023
یہ اس وقت سامنے آیا جب فلسطینی دھڑوں نےثالثوں کو مطلع کیا کہ وہ اپنی قیادت کے قتل یا انہیں کوئی بھی نقصان پہنچائے جانے کی صورت میں کسی بھی ہدف کا جواب دیں گے۔
جمعرات کی رات سے جمعہ کی صبح تک اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور جنوبی لبنان میں مسلسل حملے کئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے بیانات کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے پٹی کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان مقامات میں ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات اور کئی سرنگیں بھی شامل ہیں۔
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر صور کے آس پاس کے اہداف پر بمباری کی اور اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں القلیلہ کے اطراف میں حماس سے تعلق رکھنے والے مقامات پر 6 میزائل داغے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حماس کو لبنان کے اندر سے کام کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ہم لبنان کی ریاست کو اس کی سرزمین سے نکلنے والی تمام آگ کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔