چین کی تائیوان کے ارد گرد مشقیں دوسرے روز بھی جاری

تائیوان کے ارد گرد 9 جنگی جہاز اور 58 طیارے دیکھے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

تائیوان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں آبنائے تائیوان کے اردگرد چین کی فوجی مشقیں دوسرے روز بھی جاری رہیں۔ چینی فوج کے مطابق یہ تین روزہ مشقیں تائیوان میں ’علیحدگی پسند قوتوں‘ کے لیے انتباہ ہے۔

چین کی یہ فوجی مشقیں پیر کے روز تک جاری رہیں گی جبکہ آخری روز فیوجیان صوبے کے ساحل پر لائیو فائر ڈرلز کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چین کا یہ صوبہ عین تائیوان کے سامنے واقع ہے۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی جانب سے اس تین روزہ آپریشن کو ’’یونائیٹڈ شارپ سورڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

تائیوان کی وزارتِ دفاع کے مطابق تائیوان کے ارد گرد 9 جنگی جہاز اور 58 طیارے دیکھے گئے، چین کی راکٹ فورس کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب تائیوان نے چین پر علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ مشقیں تائیوان کی صدر سائی انگ وین کے دورہ امریکہ کے چند دن بعد شروع کی گئی ہیں۔ تائیوان کی خاتون صدر نے فوری طور پر ان جنگی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی ’’مسلسل آمرانہ توسیع پسندی‘‘ کے مقابلے کے لیے ’’امریکہ اور دیگر ہم خیال ممالک‘‘ کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

چینی فوج کے ترجمان شی ژن کے مطابق ملک کے جنگی ہوائی اور بحری جہازوں کو عملے سمیت ’’آبنائے تائیوان کے سمندری علاقوں اور فضائی حدود‘‘ میں بھیجا جائے گا۔

یہ فوجی مشقیں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکرون اور یورپی یونین کی سربراہ اُرزولا فان ڈیر لائن کی بیجنگ سے روانگی کے بعد شروع کی گئی ہیں۔ یہ دونوں اعلیٰ یورپی رہنما چین کے دورے پر تھے تاکہ چینی صدر شی جن پنگ کو قائل کر سکیں کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے میں مدد کریں۔

امریکہ کا ردعمل

چین نے آبنائے تائیوان میں گذشتہ روز سے جو 3 روزہ فوجی مشقیں شروع کر رکھی ہیں، اس معاملے پر تائیوان میں امریکی سفارت خانے نے بھی ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ کی سرگرمیوں کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں، چین کے ساتھ رابطے کے چینلز کھلے ہوئے ہیں، تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

امریکی سفارت خانے نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ خطے میں امن یقینی بنانے کے لیے کافی وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں۔

چین تائیوان تنازعہ کی حقیقت

حالیہ برسوں کے دوران چین اور تائیوان کے مابین اختلافات کی وجہ سے اس خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ بیجنگ حکومت اس جزیرے یعنی تائیوان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتی ہے اور اس نے اسے چینی سرزمین میں ’’دوبارہ شامل‘‘ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اگر ضروری ہوا تو ایسا طاقت کے ذریعے کیا جائے گا۔

تائیوان کے ساتھ چین کا کوئی بھی فوجی تصادم امریکہ کو بھی اس لڑائی میں گھسیٹ لائے گا کیونکہ تائی پے حکومت کے ساتھ واشنگٹن کے خصوصی تعلقات ہیں اور امریکہ حکومت تائیوان کو اسلحہ بھی فراہم کر رہی ہے۔ امریکی بحریہ کے جنگی جہاز بھی باقاعدگی سے آبنائے تائیوان سے گزرتے ہیں تاکہ خطے میں امریکی فوجی طاقت کو پیش کیا جا سکے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

تنازعہ کا آغاز کس نے کیا

چین اور تائیوان 1949ء سے الگ ہیں۔ ایسا تب ہوا تھا، جب چینی خانہ جنگی ماؤ زے تنگ کی قیادت میں کمیونسٹوں کی فتح کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔ اس وقت شکست خوردہ قوم پرست، جن کی قیادت ماؤ کے حریف اور کومِن ٹانگ (کے ایم ٹی) پارٹی کے سربراہ چیانگ کائی شیک کر رہے تھے، تائیوان چلے گئے۔

تائیوان میں اس وقت سے ایک الگ اور آزادانہ حکومت قائم ہے۔ تائیوان کو سرکاری طور پر جمہوریہ چین کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ چین کا سرکاری نام عوامی جمہوریہ چین ہے۔

آبنائے تائیوان اس جزیرے کو چین سے الگ کرتی ہے۔ تائیوان میں جمہوری طور پر منتخب حکومت ہے اور اس کی آبادی تقریباً 23 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔

سات دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے بیجنگ حکومت تائیوان کو ایک ''منحرف صوبے‘‘ کے طور پر دیکھتی ہے اور اسے چینی سرزمین کے ساتھ ’’متحد‘‘ کرنے کا عہد کرتی ہے۔

بیجنگ کا موقف یہ ہے کہ صرف ’’ایک چین‘‘ ہے اور تائیوان اس کا حصہ ہے۔ چین دنیا بھر کے ممالک پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ بیجنگ کا ساتھ دیں اور تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کریں۔

تائی پے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا بھی رکن نہیں ہے حالانکہ اس کے پاس ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسی تنظیموں کی رکنیت ہے۔ چین دنیا بھر کی کمپنیوں پر بھی دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں