رہائی پانے والی حوثیوں کی اکلوتی خاتون جنگجو سمیرا اتنی اہم کیوں ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی ریڈ کراس کمیٹی کی زیرنگرانی یمن کی آئینی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کے حالیہ تبادلے کےمعاہدے میں رہا میں والے جنگجوؤں میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ یہ واحد حوثی خاتون جنگجو تھی جسے اس معاہدے کے تحت رہا کیا گیا۔

حوثیوں کی صفوں میں بھرتی ہونے والی سمیرا مارش کو چار سال پیشتر آئینی حکومت کی وفادار فورسز نے مآرب گورنری سے گرفتار کیا تھا۔ سمیرا حوثی ملیشیا کی ایک سرکردہ خاتون لیڈر ہیں۔

جانا پہچانا نام

پہلے ہی لمحے سے یہ نام مانوس معلوم ہوتا ہے کیونکہ اسے حوثی ملیشیا کے رہ نما اور اس کے گروپ کے رہ نماؤں نے بار بار دہرایا تھا، جو مارش کی جلد رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ سمیرا کی عمر 30 سال ہے۔ اس کی رہائی کا بار بار مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اور رہائی کی درخواست مسترد ہونے کی صورت میں جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی جاتی۔

ملیشیا نے ایک اصول کے طور پر اپنے باقی قیدیوں، مرد اور خواتین دونوں کی رہائی کے لیے معاہدے کیے مگر مھمشین کے گروپ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کے بدلے کئی قیدیوں کو رہا کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ حوثی قیادت کی طرف سے سمیراکی رہائی کا بار بار مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سمیرا مارش حوثیوں کے ہاں کتنی اہمیت کی حامل ہے۔

اس کی غیرمعمولی اہمیت کا اندازہ صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پراس کے شاندار استقبال سے کیا جا سکتا ہے۔ حوثیوں کے ہاں معمول رہا ہے کہ وہ عام قیدیوں کی رہائی پر انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اہم رہ نماؤں کی رہائی پر باقاعدہ جشن منایا جاتا اور ان کا والہانہ استقبال کیا جاتا ہے۔

ضرورت یا دھماکہ

انسانی حقوق کی وزارت کے مشاورتی بورڈ کی رکن اور یمنی خواتین کو بااختیار بنانے کی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن زعفران زاید کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے مارش کو ایران میں اعلیٰ تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنی صفوں میں بھرتی کیا۔ اسے ایران میں اسلحہ کے استعمال، تیاری اور دیگر عسکری تربیت دی گئی۔

اسے دھماکہ خیز آلات کی تنصیب اور دھماکے کرنے کی ٹریننگ دی گئی۔ حوثی ملیشیا نے سنہ اسے 2016 میں بھرتی کیا گیا اور پھر بعد میں انہوں نے اسے الجوف کے دارالحکومت الحزم شہر بھیج دیا۔ اسے حوثی باغیوں کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا۔ یہ سیل دھماکہ خیز آلات کی تنصیب، گاڑیوں اور نیشنل آرمی اور عوامی مزاحمت کو نشانہ بنانے والے بم نصب کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

زعفران کا کہنا ہے کہ اس نے مآرب میں واپسی کے بعد سمیرا نے حوثی ملیشیا کی ہرممکن مدد کی۔ اس نے اپنے دو بچوں کے ہمراہ الجوف میں ایک پرانے مکان میں رہائش اختیارکی تاکہ غریب دکھائی دے سکے اور اس پر کسی کو شبہ نہ ہو۔ اس نے اپنی رہائش گاہ پردھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے اور حوثیوں کی طرف سے پہلے بھرتی کیے گئے دیگر عناصر کے تعاون سے کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کی۔

مارش اور اس کی پیروی کرنے والے سیل کی مانیٹرنگ اور فالو اپ کے بعد پتہ چلا کہ اس نے بہت سے آپریشنز کرنے میں کامیابی حاصل کی، ان کی منصوبہ بندی کی اور ان کی نگرانی کی، جس کی وجہ سے 10 اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں