میں نے البرھان اور حمیدتی کو 24 گھنٹوں کے لیے فائر بندی کی اپیل کی ہے: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے سوڈان میں لڑائی کی قیادت کرنے والے دونوں جنرلز سے ٹیلی فونک رابطے میں جلد جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو کہا کہ سیکریٹری بلنکن نے سوڈانی فوج کے آرمی چیف عبدالفتاح البرہان اور پیراملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے سربراہ محمد حمدان دقلو سے بات کی ہے اور اور متعدد ہلاک اور زخمی ہونے والے شہریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے دونوں جنرلز کو شہریوں، سفارتی عملے اور انسانی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنی ذمہ داری نبھانے کا کہا ہے۔

سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی سے متاثرین افراد تک انسانی امداد پہنچانے میں مدد ملے گی، بچھڑے ہوئے سوڈانی خاندان مل سکیں گے اور خرطوم میں بین الاقوامی کمیونٹی اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر سکے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے 18 اپریل منگل کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سوڈان میں حریف مسلح افواج کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے اور فوری طور پر جنگ بندی پر زور دیا۔ سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ چوبیس گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان بھی کشیدگی میں کمی لانے کی جانب اہم قدم ہوگا۔

انہوں نے پیر کو امریکی سفارتکاروں کے قافلے پر ہونے والی فائرنگ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ سوڈان میں چار روز سے جاری لڑائی میں 200 افراد ہلاک جبکہ 1800 زخمی ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سوڈان کے متحارب دھڑوں کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ انہیں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔ اس لڑائی میں اب تک کم سے کم 285 افراد ہلاک اور 1800 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ بلنکن نے، ''مسلسل اور اندھا دھند لڑائی کی وجہ سے بہت سے سوڈانی شہریوں کی ہلاکت اور ان کے زخمی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔''

پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ بندی سے، ''لڑائی سے متاثرہ افراد تک انسانی امداد کی فراہمی کے ساتھ ہی سوڈانی خاندانوں کو دوبارہ متحدہونے کا موقع ملے گا۔ اس سے خرطوم میں بین الاقوامی برادری کی محفوظ موجودگی کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔''

اواخر ہفتہ سوڈان کی عبوری حکومت کی خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کے وفادار فورسز اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے سربراہ محمد حمدان دقلو کی حامی فورسز کے درمیان تصادم شروع ہو گیا تھا، جو اب بھی جاری ہے۔

ویدانت پٹیل نے کہا کہ انٹونی بلنکن نے بات چیت کے درمیان ''دونوں جرنیلوں کی ان کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ عام شہریوں، سفارتی عملے اور انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنائیں۔''

ان کی اس بات چیت کے بعد ہی محمد حمدان دقلو نے ٹویٹر پر لکھا کہ ''ہم اپنے کنٹرول والے علاقوں میں معصوم شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔''

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ ممکنہ جنگ بندی پر قائم رہیں گے یا نہیں۔ دوسری جانب عبدالفتاح البرہان نے سنیچر کی سہ پہر کے بعد سے عوامی سطح پر کھل کر کوئی بات نہیں کی ہے۔ ہفتے کے روز انہوں نے آر ایس ایف پر حملے کا الزام لگایا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ حالات ان کے قابو میں ہیں۔

سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وولکر پرتھیس کے مطابق ملک میں حریف دھڑوں کے درمیان تین روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں کم از کم 185 افراد ہلاک اور 1,800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

وولکر پرتھیس نے پیر کے روز حریف جرنیلوں کی زیر قیادت فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان تشدد کے بارے میں کہا کہ ''یہ ایک بہت ہی غیر واضح صورت حال ہے اس لیے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ توازن کس جانب منتقل ہو رہا ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں