سوڈان میں لڑائی کے بعد غیرملکیوں کا انخلا؛کون سے ممالک کے شہری اورسفارت کارلوٹ گئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سوڈان میں فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان اچانک پیدا ہونے والے مسلح تنازع کے بعد سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں سمیت ہزاروں غیرملکی پھنس کررہ گئے ہیں جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک جنگ زدہ ملک سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

غیرملکیوں کا فضائی راستے سے انخلا کیا جارہا ہے۔اس کے علاوہ غیرملکی شہری اور سفارت کار بحیرہ احمرپرواقع پورٹ سوڈان سے بحری جہازوں کے ذریعے اپنے اپنے ممالک کولوٹ رہے ہیں۔یہ بندرگاہ دارالحکومت خرطوم سے قریباً 650 کلومیٹر (400 میل) شمال مشرق میں واقع ہے ، لیکن سڑک کے ذریعےقریباً 800 کلومیٹر (500 میل) کا فاصلہ ہے۔

اب تک سوڈان سے غیرملکیوں کے انخلا سے متعلق تفصیل حسبِ ذیل ہے:

امریکا

امریکاکی اسپیشل فورسزنے ہفتے کے روز ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہوئے تمام امریکی سرکاری اہلکاروں اور ان کے زیر کفالت افراد اور دیگر ممالک کے چند سفارت کاروں کو سفارت خانے سے نکال لیا ہے۔ایتھوپیا میں ایک اڈے سے ایندھن بھرے تھے۔ انخلا کے دوران میں ان پر کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔

ان ہیلی کاپٹروں نے جیبوتی میں واقع ایک فوجی اڈے سے اڑان بھری تھی اورایتھوپیا میں ان میں دوبارہ ایندھن بھرا گیا تھا۔اتوار کو امریکی سفارت خانے نے سکیورٹی خطرات کی وجہ سے آپریشن معطل کر دیا ہے لیکن مقامی عملہ سفارتی امورمیں معاونت کررہا ہے۔

واشنگٹن سوڈان میں موجود دیگر امریکی شہریوں کے انخلا میں تعاون کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے لیکن وہ انھیں وہاں سے نکلنے میں مدد دینے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے اتوار کے روز کہا تھا کہ برطانوی مسلح افواج نے سوڈان سے تمام سفارتی عملہ اوران کے اہل خانہ کا "پیچیدہ اور تیزی سے انخلا" کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت خون ریزی کے خاتمے اور ملک میں موجود برطانوی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہرراستے پرکام کررہی ہے۔برطانوی دفتر خارجہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ محفوظ جگہوں میں پناہ لیں اور بتائیں کہ وہ کہاں ہیں۔

برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجیوں نے امریکا، فرانس اور دیگر نامعلوم اتحادیوں کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن کیا۔

فرانس

فرانسیسی سفارتی ذرائع کے مطابق 100 افراد کو لے جانے والا ایک طیارہ اتوار کے روز خرطوم سے جیبوتی کے لیے روانہ ہوا تھا جبکہ اسی تعداد میں مسافروں کو لے کرایک دوسرا فرانسیسی طیارہ اڑان بھرنے کی تیاری کر رہا تھا۔

اس سے قبل سوڈانی فوج اورآرایس ایف نے ایک دوسرے پرفرانسیسی قافلے پرحملے کا الزام عائد کیا تھا۔سوڈانی فوج کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف نے قافلے پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک فرانسیسی شہری زخمی ہوا تھا۔

دوسری جانب آرایس ایف کا کہنا ہے کہ انخلا کے دوران میں طیاروں نے اس پرحملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک فرانسیسی شہری زخمی ہوا تھا اور اس نے قافلے کو اس کے ابتدائی مقام پر واپس بھیج دیا تھا۔فرانس کی وزارت خارجہ نے حملے یا زخمی ہونے کی اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

جرمنی

جرمن فوج کا کہنا ہے کہ پہلا فوجی طیارہ خرطوم پہنچا ہے اور اس نے سوڈان سے قریباً 200 شہریوں کے انخلا کا آپریشن شروع کیا ہے لیکن ان کے اور دیگر ممالک کے شہریوں کے انخلا میں کچھ وقت لگے گا۔

اٹلی

اٹلی نے کہا ہے کہ اس کے شہریوں کو سوئٹزرلینڈ، ویٹیکن سٹی اور دیگر یورپی ممالک سے کچھ لوگوں کے ساتھ اتوار کی رات سوڈان سے باہر لے جایا جائے گا۔

اطالوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سوڈان سے 140 اطالوی شہریوں اور دیگر ممالک سے 60 افراد کو نکالا جائے گا۔

مصر

مصر کا کہنا ہے کہ اس نے شمال میں پورٹ سوڈان اور وادی ہلاپا سے شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل اس نے خرطوم میں مقیم اپنے شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ حالات بہتر ہونے تک اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں۔

مصری وزرت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمسایہ ملک سوڈان میں موجود اپنے 10 ہزار شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے 'محتاط، محفوظ اور منظم' انخلا کے عمل کی ضرورت ہے۔اس نے تفصیل بتائے بغیر کہا کہ خرطوم میں اس کا ایک سفارت کار فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔

سعودی عرب اور خلیجی ممالک

سعودی عرب نے ہفتے کے روزاپنے 91 شہریوں اورپاکستان سمیت دیگر ممالک کے قریباً 66 افراد کو بحری جہاز کے ذریعے بندرگاہ سوڈان سے بحیرہ احمر کے پار جدہ پہنچایا ہے۔

کویت کا کہنا ہے کہ وطن لوٹنے کے خواہش مند اس کے تمام شہری جدہ پہنچ چکے ہیں۔قطرنے اپنے شہریوں کو سوڈان سے نکالنے میں مدد دینے پرسعودی عرب کا شکریہ اداکیا۔

دوسری جانب سوڈان کی فوج نے آر ایس ایف پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے پورٹ سوڈان جانے والے قطری سفارت خانے کے قافلے پر حملہ کیا اور لوٹ مار کی۔تاہم آر ایس ایف اورقطر نے اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے اور یہ واضح نہیں کہ آیا یہ وہی گروپ تھا جو سعودی عرب روانہ ہوا تھا۔

روس

خرطوم میں ماسکو کے سفیر نے روسی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ سوڈان میں تقریبا 300 روسیوں میں سے 140 جنگ زدہ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ان کے انخلا کے منصوبے بنائے گئے تھے لیکن ان پر عمل درآمد ابھی ناممکن ہے کیونکہ ان میں فرنٹ لائن کوعبور کرنا شامل ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ خرطوم میں شدید لڑائی کے علاقے کے قریب واقع روسی آرتھوڈوکس چرچ میں ایک خاتون اور بچے سمیت قریباً 15 افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

دیگر ممالک

اردن نے کہا ہے کہ اس نے قریباً 260 شہریوں کو نکالنے کے لیے چار فوجی طیارے بھیجے ہیں۔ ہفتے کے روز اس نے کہا تھا کہ وہ پورٹ سوڈان سے انخلا رہا ہے۔

خرطوم میں لیبیا کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں، ان کے اہل خانہ، طالب علموں، ایئر لائن اور بینک ملازمین سمیت 83 لیبی شہری وطن واپسی کے لیے پورٹ سوڈان پہنچ چکے ہیں۔

بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تیاریوں کے سلسلے میں ایک بحری جہاز پورٹ سوڈان اور دو فوجی طیارے جدہ بھیجے ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری خطرات سے بچنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

تونس نے کہا ہے کہ وہ پیر سے شہریوں کا انخلا شروع کر دے گا۔ خرطوم میں اس کے سفارت خانے نے تُونسی شہریوں سے کہا کہ وہ دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں اکٹھے ہونے کی کوشش کریں۔

لبنان نے کہا ہے کہ وہ پورٹ سوڈان سے 51 شہریوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہا ہے۔جنوبی کوریا نے جمعہ کے روز کہاتھا کہ وہ سوڈان میں موجود اپنے 25 شہریوں کو نکالنے کے لیے ایک فوجی طیارہ بھیج رہا ہے۔

جاپان کا کہنا ہے کہ اس کے شہریوں کو سوڈان سے لانے کے لیے تین طیارے جیبوتی پہنچ چکے ہیں۔

نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ اس کے 'مٹھی بھر' شہری فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک کے ایک پیچیدہ آپریشن کے حصے کے طور پر سوڈان سے روانہ ہوئے تھے۔اس نے کہا کہ سوڈان میں اس کے تقریبا 150 شہری ہیں۔

کینیڈا نے سوموارکو سوڈان میں آپریشن معطل کرنے اطلاع دی ہے اور کینیڈا کے سفارت کار عارضی طور پر ملک سے باہر کسی محفوظ مقام سے کام کریں گے۔

گھانا کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں اس کا سفارت خانہ ایتھوپیا میں شہریوں کے انخلا میں تعاون کے لیے کام کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کینیا کی وزارت خارجہ اپنے شہریوں کے انخلا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔سویڈن اور آئرلینڈ بھی اپنے اپنے شہریوں کے سوڈان سے انخلا کے لیے کوشاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں