مصر میں انسانیت سوز واقعہ، عورت نے 5 سالہ بیٹے کو ذبح کر کے پکا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں ایک عورت کا اپنے 5 سالہ بچے کا قتل کر کے ، کاٹ کر پکانے کا انسانیت سوز واقعہ شدید خوف و ہراس کا باعث ہے۔

شارقیہ گورنری کے فاقوس پولیس سنٹر سے منسلک ابو شلبی گاؤں میں یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہوا، جہاں عینی شاہدین کے مطابق ماں نے اپنے 5 سالہ بچے کو قتل کر کے اس کی لاش کے ٹکڑے کیے اور لاش کو پکایا۔

لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ انسانی فطرت کی خلاف ایسے بھیانک جرم کے ارتکاب کی وجہ کیا ہے؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے دماغی صحت کے ماہر ڈاکٹر جمال فرویز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ واضح ہے کہ خاتون دائمی مرگی کا شکار ہے، یہ ایک ایسی ذہنی بیماری ہے جو مریض میں ایسے واہمے اور ہذیان کا باعث بنتے ہیں جن کا حقیقت میں وجود نہیں ہوتا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس نفسیاتی عارضے میں مبتلا شخص کو ایک مدت تک اس بات کا علم نہیں ہوتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

مصری پبلک پراسیکیوشن کے مطابق عورت نے جرم کا اعتراف کیا ہے، اور تفتیش کاروں کو اس واقعے کی تصدیق کے شواہد ملے ہیں۔

پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ اسے شرقیہ گورنری کے فاقوس پولیس سٹیشن سے رپورٹ موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا کہ ایک ماں نے اپنے بیٹے کو قتل کر کے اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے گھر میں چھپا دیے ہیں۔

پولیس نے لاش کی باقیات اور آلہ قتل برآمد کر لیا۔ پولیس کے مطابق پورے گھر میں خون کے نشانات تھے۔

اپنے اعترافی بیان میں عورت بڑبڑا رہی تھی اور واضح طور پر بولنے میں مشکل کا شکار تھی۔

خاتون اپنے شوہر سے تقریباً تین سال پہلے علیحدگی اختیار کر چکی تھی اور وہ اپنے بیٹے کے ساتھ گاؤں میں اپنے گھر میں اکیلی رہ رہی تھی۔

عورت نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کے بارے میں فکر مند تھی، اس لیے اس نے اسے ذبح کرنے اور کاٹ دینے کا فیصلہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں