ڈرون حملے کے بعد جنوبی روس میں آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ بجھا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ٹاس نیوز ایجنسی نے جمعرات کو علی الصبح اطلاع دی ہےکہ ڈرون حملے کے باعث جنوبی روس میں آئل ریفائنری میں تیل کی مصنوعات کے ٹینک کے کچھ حصوں میں آگ لگ گئی، لیکن ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے آگ لگنے کے دو گھنٹے بعد ہی اس پر قابو پالیا۔

روسی نیوز ایجنسی ‘ٹاس’ نے کہا ہے کہ حادثہ کراسنودار کے علاقے میں نووروسیسیسک کی بحیرہ اسود کی بندرگاہ کے قریب ایلسکی ریفائنری میں پیش آیا۔

گذشتہ روزمغرب میں مین لینڈ روس اور کریمیا کو ملانے والے پل کے قریب ایک ایندھن ڈپو میں آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔

کراسنودار کے علاقے کے گورنر وینیمین کونڈراتیف نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ "ہماری ہنگامی خدمات کے لیے ایک اور مشکل رات"۔انہوں نے مزید کہا کہ ایلسکی ریفائنری میں تیل کی مصنوعات کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آگ کیسے لگی؟۔

یوکرین شاذ و نادر ہی اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے جب کہ ماسکو کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے اور فوجی اہداف پر بار بار ڈرون حملے ہوتے ہیں۔

ماسکو نے کیف کو 29 اپریل کو سیواستوپول میں تیل کے ایک ڈپو کو آگ لگانے والے حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

یہ واقعہ کریملن کی عمارت کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں ماسکو نے کیف پر انگلی اٹھاتے ہوئے اس پر روسی صدر ولادیمیر پوتین کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں