الجزائر میں فیس بک کے ذریعہ شیر خوار بچوں کی تجارت کرنیوالا گینگ پکڑا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الجزائر میں فیس بک کے ذریعہ شیر خوار بچوں کی تجارت کرنیوالا گینگ پکڑا گیا، نگرانی کرنے والے کیمرے کے مناظر میں ایک خاتون کو ایک دو سالہ بچے کو لے کر ٹیکسی میں جانے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ۔ اسی وقت الجزائر کے حسین ڈے ضلع میں سیکیورٹی کو ایک باپ کی جانب سے اپنے شیر خوار بچے کی گمشدگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ کیمرے نے مشتبہ خاتون کے منظر کو عکس بند کرلیا تھا۔ اسی وجہ سے سکیورٹی فورسز نے اسے ٹریک کیا گیا اور اسے پھنسانے کی کوشش کی گئی۔ کچھ ہی دیر بعد دارالحکومت کی القبہ میونسپلٹی میں سیکیورٹی ایجنٹوں میں سے ایک نے اسے دیکھ لیا اور اسے گرفتار کرلیا۔

Advertisement

اس کے بعد بچے کو کیسے بازیاب کرایا گیا۔ اس کی کہانی الگ ہے۔ نیشنل سیکیورٹی سروسز کے بیان کے مطابق مشتبہ خاتون کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اس آپریشن میں اکیلی نہیں تھی۔ اس کے بھائی اور بھابھی کے گھر شیر خوار بچے کو رکھا جارہا تھا۔ اس طرح خاتون کے بھائی کے گھر چھاپہ مار کر بچے کو بازیاب کرالیا گیا۔

فورسز نے تحقیقات کیں اور حقائق تک پہنچا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ گینگ بچوں کی تجارت فیس بک کے ذریعے کر رہا تھا۔ فیس بک کے ذریعہ یہ ایسے ماں باپ تک رسائی حاصل کرتے تھے جن کی اولاد نہیں ہے۔ اس کے بعد ان سے رابطہ کیا جاتا اور انہیں کہا جاتا کہ آپ کو بچے ہم فراہم کریں گے۔

حالیہ شیر خوار بچے کے اغوا نے ذرائع ابلاغ کی ویب گاہوں پر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ الجزائر میں بچوں کے اغوا کے مسائل اور سزاؤں کے بارے میں بحث پھر شروع ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا پر گروہ کو پکڑنے پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں