وارہیڈز میزائلوں سے لیس جدید ترین روسی آبدوز جلد بحرالکاہل میں بھیجی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

روس کی ‘ٹاس’ نیوز ایجنسی نے بدھ کو رپورٹ میں بتایا ہے کہ روسی بحریہ کی جدید ترین جوہری طاقت سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوز اگست میں کامچٹکا جزیرہ نما میں مستقل اڈے پر منتقل ہو جائے گی۔ یہ پیش رفت ماسکو کی جانب سے بحر الکاہل میں فوجی موجودگی کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

آبدوز "جنرلسیمو سووروف" جو 2022ء کے آخر میں سروس میں داخل ہوئی تھی، جوہری وار ہیڈز کے ساتھ 16 روسی بلاوا میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سرکاری ایجنسی "ٹاس" نے فوج کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آبدوز اگست میں شمالی بیڑے (آرکٹک میں) سے پیسیفک فلیٹ میں داخلی منتقلی سے گذرے گی۔"

روسی آبدوز جنرلیسیمو سووروف
روسی آبدوز جنرلیسیمو سووروف

روس ایشیا اور بحرالکاہل سے متصل اپنے وسیع مشرقی علاقوں میں اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جہاں وہ امریکہ پر اپنی موجودگی بڑھانے کا الزام لگاتا ہے، جس سے جاپان اور پورے خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھتےجا رہے ہیں۔

روسی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق یہ آبدوز "بورائی" کلاس کی آبدوزوں میں چھوٹی اور سمندر میں چھپنے کی صلاحیت رکھنے والی چھٹی آبدوز ہے جو بیلسٹک میزائل آبدوزوں کی جگہ لے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں