خلائی سیٹشن میں مشن مکمل، سعودی خلاباز بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر آٹھ دنوں کے تحقیقاتی مشن مکمل کرکے خلانوردوں کی ٹیم منگل کو رات گئے زمین پر بحفاظت اتر گئی۔ اس ٹیم میں دو امریکی اور پہلی مرتبہ ایک عرب خاتون سمیت دو سعودی خلا نورد شامل تھے۔

دوسرے ’آل پرائیویٹ مشن‘ جس میں دو سعودی خلاباز بھی شامل ہیں خلائی سٹیشن پر آٹھ روزہ سائنسی ریسرچ کے بعد بدھ کو امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل کے قریب اُترے۔



سپیس ایکس کریو ڈریگن کیپسول جو انہیں لے کر آیا نے 12 گھنٹے کی واپسی کی پرواز کی۔ اور خلا سے زمین کی فضا میں داخلے کے بعد خیلج میکسیکو میں پیرا شوٹ کے ذریعے اُتارا۔ یہ علاقہ فلوریڈا کے ساحل کے قریب پانامہ سٹی میں میں ہے۔

سعودی خلاباز زمین پر واپسی کی تیاری کرتے ہوئے۔ [اسکرین گریب]
سعودی خلاباز زمین پر واپسی کی تیاری کرتے ہوئے۔ [اسکرین گریب]

واپسی کی اس پرواز کو سپیس ایکس اور مشن کے پیچھے موجود کمپنی ایکژیوم سپیس کی طرف سے مشترکہ ویب کاسٹ کے ذریعے براہ راست نشر کیا گیا۔

سعودی عرب نے کروڑوں ڈالر کے اس پرائیوٹ پروجیکٹ پر اپنے دو خلا بازوں ریانہ برناوی اور علی القرنی کو بھیجا تھا۔ ان کے ساتھ امریکی خلا باز پیگی وائٹسن اور جان شوفنر بھی موجود تھے۔

اس مہم کی کامیابی کے ساتھ ہی ریانہ پہلی سعودی خلا باز بن گئی ہیں۔ وہ اسٹیم سیل پر تحقیقات کرتی ہیں جب کہ القرنی سعودی ایئر فورس میں لڑاکا پائلٹ ہیں۔

ریانہ نے خلائی اسٹیشن سے واپسی سے قبل اپنے آنکھوں سے بہنے والے خوشی کے آنسووں کو پوچھتے ہوئے کہا،" ہر کہانی کا اختتام ہوتا ہے لیکن یہ ہمارے ملک اور ہمارے خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔"

مشن میں شامل سعودی خلابازوں علی القرنی اور ریانہ برناوی نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر آٹھ روزہ قیام کے دوران سعودی سکول کے بچوں کے ساتھ تجربات میں حصہ لیا۔

خلانوردوں کا سپیش شپ ایکس ڈریگن 300 پاؤنڈ سے زائد سامان کے ساتھ زمین پر واپس پہنچا جس میں ناسا کے سائنسی آلات کے علاوہ 20 سے زیادہ مختلف تجربات کا ڈیٹا شامل ہے۔

سپیس ایکس کے کیپسول کو سمندر سے نکالے جانے کے مناظر۔ [سکرین گریب]
سپیس ایکس کے کیپسول کو سمندر سے نکالے جانے کے مناظر۔ [سکرین گریب]
سپیس ایکس کے کیپسول کو سمندر سے نکالے جانے کے مناظر۔ [اسکرین گریب]
سپیس ایکس کے کیپسول کو سمندر سے نکالے جانے کے مناظر۔ [اسکرین گریب]
کیپسول سے نکلنے کے بعد پہلی عرب خاتون خلاباز ریانہ برناوی ہاتھ ہلا رہی ہیں۔ [اسکرین گریب]
کیپسول سے نکلنے کے بعد پہلی عرب خاتون خلاباز ریانہ برناوی ہاتھ ہلا رہی ہیں۔ [اسکرین گریب]

جب کیپسول کا دروازہ کھلا تو زمین کا چکر لگانے والی پہلی عرب خاتون ریانہ برناوی نے کیمرے کو دیکھ کر کامیابی کے نشان کے طور پر اپنا انگوٹھا اوپر کی جانب کر کے اشارہ کیا۔

واضح رہے کہ 1985 میں سعودی فضائیہ کے پائلٹ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے امریکہ کے زیر اہتمام خلائی سفر میں حصہ لیا تھا جو خلا میں جانے والے پہلے سعودی بن گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں