بلینکن اور نیتن یاہو کی مشرق وسطیٰ میں حالات معمول پر لانے کی کوششوں پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مزید انضمام پر تبادلہ خیال کیا۔

کال کے ایک ریڈ آؤٹ کے مطابق سیکرٹری خارجہ اور وزیر اعظم نے باہمی دلچسپی کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ مشرق وسطی میں اسرائیل کے انضمام کو وسعت دینے اور خطے کے ملکوں کے ساتھ اس کے تعلقات کو معمول پر لانے پر بات چیت کی گئی۔

بلینکن نے عقبہ اور شرم الشیخ میں علاقائی اجلاسوں میں کیے گئے وعدوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جا سکے جو فلسطین کے ساتھ دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہوں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر نے کہا کہ دونوں عہدیداروں نے وسیع تر علاقائی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں ایران سے لاحق خطرہ، اسرائیل کی سلامتی اور اسرائیل سے 75 سالہ شراکت داری کے لیے امریکہ کی آہنی وابستگی پر زور دیا گیا۔

خیال رہے جمعرات کو ریاض میں بلینکن اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی تھی۔

شہزادہ فیصل نے بشار الاسد حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے بارے میں سعودی عرب کے موقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قطع نظر کہ کوئی بشار الاسد کے بارے میں کیا سوچتا ہے، ہم نے شام کے بحران کے نتیجے میں درپیش انسانی چیلنجوں کو حل کرنے کا واحد راستہ اختیار کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران شہزادہ فیصل نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اپنا سویلین جوہری پروگرام تیار کر رہا ہے اور اس پروگرام کے لیے بولی دینے والوں میں امریکہ کو ترجیح دیتا ہے۔

سعودی عرب کے دورے پر روانگی سے قبل پیر کے روز بلینکن نے کہا تھا کہ واشنگٹن اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کام کر رہا ہے اور اس کا مقصد امریکی قومی سلامتی کے مفادات کو پورا کرنا ہے۔ دریں اثنا سعودی عرب نے بارہا کہ رکھا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کسی بھی قسم کا امن معاہدہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط پر ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں