الجزائر میں امتحان کے دوران نقل کرنےوالی طالبہ کو قید اور جرمانے کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امتحانات کے دوران طلبا اور طالبات کی طرف سے نقل دنیا بھر میں ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے مختلف طریقے بھی اختیار کیے گئے ہیں۔

اسی حوالے سے الجزائرمیں ایک خبر میڈیا میں شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک طالبہ کو عدالت کی طرف سے امتحانات میں جعل سازی اور نقل کا حربہ استعمال کرنے پر تقریبا دو لاکھ دینارجرمانہ ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 1468 ڈالر کے مساوی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کل پیرکو الجزائر کی ایک عدالت نے ایک طالبہ کو ثانوی اسکول کے امتحان کے دوران دھوکہ دہی کا جرم ثابت ہونے پرایک سال قید کی سزا سنائی اور جرمانہ عائد کیا۔

"ٹیلی کمیونیکیشن کا استعمال"

عدالت کا یہ فیصلہ دارالحکومت الجزائر سے تقریباً 150 کلومیٹر مغرب میں واقع شہر ملیانا کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 11 پیراگراف 3 کی دفعات کے مطابق جاری کیا گیا۔

عدالت کا یہ فصلہ امتحانات میں جعل سازی روکنے اور امتحانات کو محفوظ بنانے کے فریم ورک کا حصہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سزا پانے والی لڑکی نے دھوکہ دہی کے عمل میں "ٹیلی کمیونیکیشن آلات" کا استعمال کیا تھا۔

ملزمہ پر فرد جرم

اسی تاریخ کو ایک فوج داری فیصلہ جاری کیا گیا تھا، جس میں ملزمہ کی سزا کا حکم دیا گیا تھا اور اسے ایک سال قید اور 200,000 دینار جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کا موبائل فون ضبط کرلیا گیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ الجزائر میں رواں سال 2,674 امتحانی مراکز میں سات لاکھ نوے ہزار سے زیادہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ان میں اسکینڈری کلاسزکے باقاعدہ طلبا اور فاصلاتی تعلیم کے طلبا کے امتحانی مراکز شامل ہیں۔ ان قیدی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں